گلزادی بلوچ کیس: بی وائی سی کاعدالتی کارروائی پر شدید تحفظات، غیر جانب داری اور حقِ دفاع کے تحفظ کا مطالبہ

18

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گلزادی بلوچ کے مقدمے میں عدالتی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے محرومی اور ضمانت کی درخواستوں میں طویل تاخیر کے الزامات عائد کیے ہیں۔

بی وائی سی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج اول کے سامنے گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی کے دوران متعدد مواقع پر جج کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور انہیں عمر قید یا سزائے موت سنانا پڑ سکتی ہے، جس سے عدالتی آزادی اور غیر جانب داری سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

بیان کے مطابق ۷ ستمبر کو عدالتی ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور وکیلِ صفائی کی نمائندگی کے بغیر ایک گواہ پر جرح کی گئی۔ بی وائی سی نے اس عمل کو آئین کے آرٹیکل ۱۰ اے میں دیے گئے منصفانہ ٹرائل اور قانونی عمل کے حق جبکہ شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی شقوں کے منافی قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔

بی وائی سی نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کو اس معاملے میں غیر جانب دار ادارہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کی کارروائیوں، فیصلوں اور مبینہ مسلسل عدم اقدام کے باعث زیرِ حراست افراد کی طویل حراست اور انصاف میں تاخیر ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف مقدمات میں ان کی ہڑتال کے دوران بھی یک طرفہ کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ان کی ضمانت کی درخواستوں پر طویل اور غیر واضح تاخیر کی جا رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ زیرِ حراست افراد کو عدالتی عمل ہی کے ذریعے سزا کی صورت میں نہیں رکھا جانا چاہیے اور شخصی آزادی سے متعلق ضمانت کی درخواستوں پر فوری غور کیا جانا ضروری ہے۔ بی وائی سی نے متعلقہ عدالتی و آئینی اداروں سے مطالبہ کیا کہ عدالتی کارروائیوں کو غیر جانب دار بنایا جائے، دفاع کے حق کا تحفظ کیا جائے، متعلقہ جج کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور زیرِ التوا ضمانت و آئینی معاملات کا فوری، شفاف اور قانونی طریقے سے فیصلہ کیا جائے۔