گوادر میں دو ماہی گیروں کی جبری گمشدگی کے بعد تشدد زدہ لاشیں برآمد۔ بی وائی سی

37

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہاکہ جیونی، گوادر سے تعلق رکھنے والے دو ماہی گیر پیری عصا اور شاہ بخش عمر کو 6 اور 7 جنوری 2026 کی رات علیحدہ علیحدہ چھاپوں کے دوران ان کے گھروں سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو بعد ازاں تقریباً چھ ماہ تک جبری گمشدگی کا سامنا رہا۔ اس دوران ان کے اہل خانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں مل سکی۔

بعد میں دونوں افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن پر شدید تشدد اور جسمانی زیادتی کے واضح نشانات موجود تھے۔ پیری عصا کے جسم پر بھی تشدد کے آثار پائے گئے، جبکہ شاہ بخش عمر کے چہرے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور جسم پر سنگین زخم موجود تھے، جو شدید جسمانی تشدد کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق ان واقعات کو جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں بعض اوقات پہلے سے لاپتہ افراد کی لاشیں بعد میں سکیورٹی واقعات سے جوڑ کر پیش کی جاتی ہیں۔