28 کارروائیوں میں قابض فوج کے 52 اہلکار ہلاک، چوکیوں پر کنٹرول اور اسلحہ ضبط – بلوچ لبریشن آرمی

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے یکم ستمبر سے 7 ستمبر کے دوران 28 مختلف کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج کے 52 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائیاں پسنی، خاران، قلات، تربت، مستونگ، سوراب، تمپ، پشین، جھل مگسی، نوشکی، چاغی اور کوئٹہ میں سرانجام دی گئیں۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فورسز کی چوکیوں اور گاڑیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ ودیگر جنگی سامان تحویل میں لے لیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں میں بی ایل اے کے 12 سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

ترجمان نے کہاکہ 1 ستمبر کو گوادر کے علاقے پسنی میں زیرو پوائنٹ پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے بیک وقت پولیس و لیویز کی مشترکہ پوسٹ سمیت کسٹمز اور کوسٹل پولیس کی چوکیوں پر حملہ کرکے ان کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں نے چوکیوں سے اسلحہ و دیگر حربی سامان تحویل میں لینے کے بعد پوسٹوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کردیا۔ اس دوران سرمچاروں نے مختلف مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کر کے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا، جبکہ کوسٹل پولیس کی گاڑیوں میں پیش قدمی کرنے والی قابض پاکستانی فوج کی کوشش کو سرمچاروں نے موثر حملے سے ناکام بنا کر انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔

انہوں نے کہاکہ اسی روز خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس سے دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔ مزید برآں، قلات کے علاقے گراڑی میں سرمچاروں نے کوئٹہ تا کراچی مرکزی شاہراہ پر قابض فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ اپنے لیئے بکتر بند گاڑیاں منتقل کررہی تھی۔ اس حملے میں قابض فوج کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 3 بکتر بند گاڑیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

کیچ (تربت) کے علاقے دشت میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے دو سرمچار، سنگت یونس سبزل عرف ملگزار اور سنگت دودا عرف سرباز، شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

ترجمان نے کہاکہ 2 ستمبر: مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں ‘گُرو’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے تباہ کرنے کے بعد قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ اس طویل جھڑپ میں قابض فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور 7 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء قلات کے علاقے توک میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے پر مسلح حملہ کرکے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہاکہ 3 ستمبر: سوراب کے علاقے ہاجیکہ میں بلوچ لبریشن آرمی کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ریموٹ کنٹرول دھماکے میں نشانہ بنایا۔ اس شدید دھماکے میں قابض فوج کی ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی اور 7 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

اسی روز تمپ کے علاقے ملانٹ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو نقصان پہنچایا، مزید برآں تمپ شہر میں قابض فوج کے کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر نشانہ بنایا گیا جبکہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں قابض فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں دشمن کو سنگین جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ترجمان نے کہاکہ مزید برآں، پشین میں زیارت کراس کے مقام پر بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے ایک مہلک اور کامیاب حملے میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ قلعہ سیف اللہ اسکواٹس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی 134 ونگ کی 4 گاڑیاں اس حملے کی زد میں آئیں، جن میں سے ایک ملٹری ٹرک سمیت 2 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ سرمچاروں نے قابض فوج کے 18 اہلکاروں کو ہلاک کرکے ان کا تمام اسلحہ و حربی سامان ضبط کر لیا، جبکہ 5 زخمی اہلکار موقع سے بھاگ نکلے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں نائیک اسماعیل، سپاہی بلال، سپاہی عبد الرحمٰن، سپاہی فخر الدین، سپاہی کنکھب، سپاہی عرفان، سپاہی اکبر، سپاہی عطاء محمد، سپاہی رضوان، سپاہی محمد طفیل، نائیک محمد ایوب، سپاہی اولیاس خان، سپاہی واجد علی، سپاہی محمد اشفاق، حوالدار لطف الرحمن اور نائیک زین اللہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے زیارت کراس سے متصل خانی بابا کے مقام پر ایک استحصالی کمپنی کی سائٹ کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود گاڑیوں سمیت 14 بھاری مشینریوں کو تباہ کردیا۔ سرمچاروں نے کمپنی کے حراست میں لیئے گئے اہلکاروں کو تنظیمی پالیسی کے تحت بعد میں رہا کر دیا۔

ترجمان نے کہاکہ 4 ستمبر: مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے 2 کمانڈوز کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کررہے تھے۔

مزید کہاکہ 5 ستمبر: قلات کے علاقے مہلبی میں بی ایل اے کے اسنائپر نے قابض فوج کے ایک اہلکار کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کوئٹہ تا قلات مرکزی شاہراہ پر جمع تھے۔ اسی شب مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے شدید جھڑپوں کے دوران قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔

بیان میں کہاکہ 6 ستمبر: جھل مگسی کے علاقے کوٹڑو میں سرمچاروں نے قابض فوج کے زیرِ استعمال ایک ریسٹ ہاؤس کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کر دیا۔ اسی روز سرمچاروں نے قلعہ عبداللہ سے متصل غزا بند کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے زیرِ استعمال ایئرپورٹ سائٹ پر حملہ کرکے وہاں موجود کمپیوٹرز، دیگر آلات اور عمارت کو نذرِ آتش کرکے مکمل تباہ کر دیا۔

ترجمان نے کہاکہ نوشکی کے علاقے کلی نوکجو میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے اور نام نہاد ‘باپ’ پارٹی کے رکن عبد الرحمان لانگو کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص طویل عرصے سے قابض فوج کی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح جتھے کی سربراہی کر رہا تھا اور مخبروں کی بھرتی سمیت شہریوں کے گھروں پر چھاپوں میں بھی معاونت فراہم کرتا تھا۔ آلہ کار عبد الرحمان لانگو قابض فوج کی ایماء پر نام نہاد ریلیاں اور جشن کی تقاریب منعقد کرواتا تھا، جس کے عوض قابض فوج نے اس کے جتھے کو علاقے میں بھتہ خوری، ڈکیتی اور منشیات کے کاروبار کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔

انہوں نے کہاکہ 7 ستمبر: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندے رحمت سعید ولد سعید محمد (سکنہ کرک) کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندے پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔ آلہ کار رحمت قابض فوج کے لیے مخبری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی جارحیت میں بھی دشمن کے ہمراہ ہوتا تھا۔

اسی روز خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر اسنائپر حملے میں ایک اہلکار کو ہلاک کردیا، جبکہ کیمپ پر مارٹر گولے داغ کر دشمن کو مزید جانی ومالی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہاکہ مزید برآں، قلات کے علاقوں گراڑی اور مہلبی میں کوئٹہ تا کراچی شاہراہ پر سرمچاروں نے سیندک استحصالی پروجیکٹ کی گاڑیوں اور قابض فوج کے کا نوانے کو حملوں میں نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔

قبل ازیں، گزشتہ ماہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار شکیل احمد کٹبار (سکنہ ٹیپل) کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھتہ خوری میں مصروف تھا۔ دورانِ تفتیش شکیل نے اعتراف کیا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا آلہ کار اور نام نہاد ‘پاکستان زندہ باد’ تنظیم کا فعال رکن ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ قابض فوج کے لیئے مخبروں کی بھرتی میں بھی ملوث رہا ہے۔ تفتیش کے دوران شکیل کٹبار نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام اور تفصیلات بھی افشا کیں۔ قومی غداری کے جرم میں بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے تحت شکیل کٹبار کو سزائے موت دی گئی۔

انہوں نے کہاکہ 31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچاہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں دشمن کے ایک اعلیٰ آفیسر سمیت 16 اہلکار ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے۔ 4 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے 10 سرمچار سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی وطن کی آزادی کے مقدس معرکے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے اپنے تمام عظیم شہدا، سنگت یونس سبزل عرف ملگزار، سنگت دودا عرف سرباز، سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو کی عظیم قربانیوں کو انتہائی عقیدت کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان باہمت فرزندوں کا مقدس لہو اور بے مثال ایثار بلوچ قومی جدوجہد کا تابناک باب اور سرمچاروں کے عزم واستقلال کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ بی ایل اے اپنے شہدا کے ارمانوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قابض فوج اور اس کے نوآبادیاتی استحصالی منصوبوں کے خلاف ‘معاشی ناکہ بندی’ کی پالیسی پوری سختی کے ساتھ نافذ ہے اور تمام مرکزی شاہراہوں پر یہ معاشی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ بلوچ سرزمین کے دفاع اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیئے سرمچاروں کی کارروائیاں آزاد وخودمختار بلوچستان کے قیام تک ہر محاذ پر تمام تر قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔