بلوچستان: 2 افراد جبری لاپتہ، 5 بازیاب

1

بلوچستان سے مزید دو شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پانچ افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مستونگ سے 23 اگست 2026 کو رات 3:00 بجے علی بلوچ ولد عبدالحئی کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

جبکہ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ، کلی گوہر آباد سے 16 اپریل 2026 کو رات 12:00 بجے شکیل بلوچ ولد زرداد کو ان کے گھر سے حساس اداروں (آئی ایس آئی) اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ یہ دونوں نوجوان اب تک لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب پانچ دیگر شہری، جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، بعد ازاں بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

ان میں سعود بشیر ولد بشیر احمد، سکنہ الندور بلیدہ، جنہیں 4 ستمبر 2026 کو بلیدہ، الندور سے لاپتہ کیا گیا تھا، 5 ستمبر کو بازیاب ہوئے۔

صدام بگٹی ولد مہوت خان، جنہیں 29 اگست 2026 کو ڈیرہ بگٹی مین ٹاؤن سے لاپتہ کیا گیا تھا، 3 ستمبر کو ڈیرہ بگٹی میں بازیاب ہوئے۔

زبیر احمد ولد نور احمد، جنہیں 30 جولائی 2026 کو حب چوکی سے لاپتہ کیا گیا تھا، 2 ستمبر کو حب چوکی میں بازیاب ہوئے۔

امداد شاہوانی ولد رؤف شاہوانی، جنہیں 30 اگست 2026 کو کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا، 3 ستمبر کو کوئٹہ میں بازیاب ہوئے۔

جہانزیب بلوچ ولد عبدالصمد، جنہیں 9 جولائی 2026 کو پنجگور سے لاپتہ کیا گیا تھا، 2 ستمبر کو پنجگور میں بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بیشتر کیسز ریاستی دباؤ، خوف اور مختلف رکاوٹوں کے باعث بروقت رپورٹ نہیں ہو پاتے، جس کے سبب جبری گمشدگیوں کی اصل تعداد ریکارڈ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔