زہری میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری کرفیو میں مزید شدت اور پاکستانی فورسز کی جانب سے آپریشن کی اطلاعات ہیں۔
بلوچستان کے علاقے زہری میں پاکستانی فورسز نے کرفیو کے دوران سنی سے 25 علاقہ مکینوں کو تحویل میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے، جبکہ زہری کے مختلف علاقوں میں آپریشن کی اطلاعات ملی ہیں۔
سنی سے اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کے کواڈکاپٹر حملے میں پانی لینے جانے والی ایک خاتون جانبحق، جبکہ حملے میں مزید ایک خاتون سمیت دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
زہری میں کرفیو کے باعث موبائل سروسز معطل کردی گئی ہیں، جس کے باعث جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے افراد اور جانبحق و زخمی افراد کی شناخت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ خضدار کی تحصیل زہری میں گزشتہ کئی ماہ سے کرفیو نافذ ہے، جہاں شہریوں کے گھروں سے نکلنے اور بازار جانے کے اوقات مقرر کردیئے گئے ہیں، جبکہ علاقے سے باہر جانے کے لیے فورسز حکام کی اجازت ضروری ہے۔
اس سے قبل زہری کرفیو کے دوران سو ہندہ کے مقام پر پاکستانی فورسز نے ایک آپریشن کے دوران بیس سے زائد شہریوں کو قتل کردیا تھا، جبکہ مختلف مقامات سے درجنوں افراد جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں۔



















































