پسنی؛ بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی، زرعی پیداوار کو کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ: نوشکی میں غیر اعلانیہ کرفیو

1

ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے زرعی علاقے شادیکور سے سیکیورٹی وجوہات کے نام پر بڑے پیمانے پر مقامی آبادی کی جبری نقل مکانی کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث علاقے کی زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق تقریباً پانچ ہزار نفوس پر مشتمل آبادی اپنے گھر بار اور کھیت چھوڑ کر پسنی شہر منتقل ہو چکی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق شادیکور کو ضلع کیچ اور گوادر کے سب سے زرخیز زرعی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سالانہ کروڑوں روپے مالیت کی زرعی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ علاقے میں تقریباً 10 ہزار ایکڑ قابلِ کاشت اراضی پر جدید آبپاشی نظام کے تحت کاشت کاری کی جاتی ہے، جب کہ تربوز، خربوزہ، کھجور، بیر، ٹماٹر، پھول گوبھی، بند گوبھی، گاجر، پالک، آلو، شلغم، بھنڈی، مرچ، پیاز، مٹر، لوکی اور کھیرا سمیت متعدد فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق شادیکور سے ہر سال تقریباً 20 کروڑ روپے مالیت کے تربوز کراچی اور بلوچستان کی مختلف منڈیوں میں بھیجے جاتے ہیں، جب کہ دو سے تین کروڑ روپے مالیت کی دیگر سبزیوں کی پیداوار بھی یہاں سے مارکیٹ تک پہنچتی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کیچ اور ضلع گوادر میں استعمال ہونے والی تقریباً 40 فیصد تازہ سبزیاں اسی علاقے سے فراہم کی جاتی ہیں، جس کے باعث انخلاء کے ممکنہ اثرات صرف مقامی زمینداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی غذائی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

متاثرہ زمینداروں کا کہنا ہے کہ علاقے کی 80 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، جب کہ اس وقت پالک، ٹماٹر، پھول گوبھی، بھنڈی، کھجور اور دیگر فصلیں کٹائی کے آخری مراحل میں ہیں۔ ان کے مطابق انخلاء کے باعث فصلوں کی دیکھ بھال اور آبپاشی کا سلسلہ رک گیا ہے، جس سے کروڑوں روپے مالیت کی پیداوار ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق چند روز قبل گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مکینوں کو ممکنہ تصادم کے پیش نظر علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد بیشتر خاندانوں نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متاثرہ زمینداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم انہیں اپنی تیار فصلوں کی حفاظت اور کٹائی کے لیے علاقے میں رہنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ پرامن شہری ہیں اور ان کی برسوں کی محنت اور سرمایہ کاری داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انخلاء کے اسباب، احکامات یا متبادل انتظامات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جب کہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے بیشتر خاندان پسنی شہر پہنچ چکے ہیں۔

وہاں نوشکی شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

پاکستانی فورسز نے نوشکی بازار اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق بازار کی اچانک بندش سے تاجروں اور عوام کو سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل زہری اور مشکے میں بھی عوام کو سخت کرفیو کا سامنا ہے، جب کہ ایک ہفتے سے جیونی پانوان میں بھی پاکستانی فورسز کی جانب سے راستوں کی بندش کے باعث عوام کو شدید پریشانی اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔