تفتان بارڈر پر سیکیورٹی خدشات کے باعث دو ماہ سے پھنسے 200 سے زائد تجارتی گاڑیوں کے ڈرائیور اور مالکان پریشان
تفتان بارڈر پر دو ماہ سے پھنسے ڈرائیوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر جانے کی اجازت دی جائے، ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ کانوائے کے نام پر بڑی تجارتی گاڑیوں کو دو ماہ سے تفتان بارڈر پر روکا گیا ہے، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر متعدد ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں جانے کی اجازت دی گئی تو وہ آئندہ کبھی تفتان نہیں آئیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے فورسز حکام کے احکامات پر گزشتہ کئی ماہ سے تفتان بارڈر پر 200 سے زائد تجارتی گاڑیاں روک رکھی ہیں، جن میں ایران سے پنجاب اور پاکستان کے دیگر شہروں کو جانے والے ایل پی جی باؤزرز بھی شامل ہیں۔
پاکستانی فورسز حکام نے کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مسلسل حملوں کے باعث تجارتی گاڑیوں کو تفتان بارڈر پر روک رکھا ہے، جس کے باعث ڈرائیور اور گاڑی مالکان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے رواں سال بلوچستان کی مختلف شاہراہوں پر معاشی ناکہ بندیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد بلوچستان کو ایران اور پاکستان کے دیگر صوبوں سے ملانے والی شاہراہوں پر درجنوں گیس و ایل پی جی باؤزرز سمیت دیگر تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مزید برآں بلوچستان میں ایل پی جی اور گیس منتقل کرنے والی گاڑیوں پر حملوں کے باعث پاکستانی صوبہ پنجاب کو گیس پریشر اور صنعتی گیس کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ بلوچستان میں جاری حملوں نے اس مسئلے کو پاکستانی حکومت کے لیے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


















































