خاران میں مسلح حملے، فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات، بلوچستان میں آئندہ 24 گھنٹے حساس قرار

293

بلوچستان کے ضلع خاران میں منگل کی شب مختلف مقامات پر مسلح افراد کی جانب سے چیکنگ کیے جانے، فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے متعدد مقامات پر ناکے قائم کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اسی دوران شہر کے مختلف علاقوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کی رہائش گاہ کے قریب تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران پولیس اہلکار اپنی گاڑیاں چھوڑ کر موقع سے نکل گئے، جس کے بعد حملہ آوروں نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

ذرائع کے مطابق اس دوران مسلح افراد نے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

دوسری جانب حکام نے بلوچستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ 26 اگست کو موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروس کی بندش سے متعلق بھی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

خاران میں یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 26 اگست کو بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کو 20 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ ماضی میں اس تاریخ کو بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح تنظیموں کی جانب سے حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث حکام اس عرصے کو پہلے ہی حساس تصور کرتے ہیں۔

تاہم، فی الحال خاران میں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے