مچھ سے لاپتہ دو بھائیوں کی لاشیں برآمد، بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تشویش کا اظہار

12

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق بلوچستان کے علاقے مچھ سے بولان میڈیکل کالج کے طالب علم میٹھا خان اور ان کے بھائی حافظ محمد وقاص کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے جبری طور پر لاپتہ کیا، جن کی لاشیں 24 اگست 2026 کو برآمد ہوئیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق میٹھا خان ولد نواب خان بولان میڈیکل کالج کے طالب علم تھے، جبکہ ان کے بھائی حافظ محمد وقاص ولد نواب خان لیویز اہلکار اور حافظِ قرآن تھے۔ دونوں بھائیوں کا تعلق مچھ، ضلع بولان کے علاقے سے بتایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق دونوں بھائیوں کو مچھ سے ایک ساتھ حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں 24 اگست کو ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حافظ محمد وقاص کو عیدالاضحیٰ سے تقریباً دس روز قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جس کے بعد اہلخانہ طویل عرصے تک ان کے بارے میں معلومات سے محروم رہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ میٹھا خان ایک میڈیکل طالب علم تھے اور ان کا مستقبل روشن تھا، تاہم ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب ان کے بھائی حافظ محمد وقاص ایک لیویز اہلکار اور حافظِ قرآن تھے، جن کی موت نے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

کمیٹی نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی اور عدالتی عمل سے محروم کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔