بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پنجگور اور کوئٹہ سے دو افراد کے جبری لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ پنجگور سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان کئی ماہ بعد بازیاب ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق 16 سالہ حسنین امداد ولد امداد بلوچ سکنہ پنجگور 21 اگست 2026 کو شام 5 بجے پنجگور بس ٹرمینل کے قریب سے پاکستانی فورسز ہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
دوسری جانب 23 سالہ نصیب اللہ بلوچ ولد علی مراد، کلی سردار کاریز، ویسٹرن بائی پاس کوئٹہ کا رہائشی اور دکاندار ہے۔ اہلخانہ کے مطابق اسے 28 جولائی 2026 کو صبح 4 بجے گھر سے فورسز اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
دریں اثنا یحییٰ ولد محمد یاسین، سلیمان بازار پروم، پنجگور کا رہائشی، جو 16 مارچ 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 24 اگست 2026 کو پروم، پنجگور سے بازیاب ہوگیا۔

















































