جبری گمشدگی کے شکار این ڈی پی کے غنی بلوچ و ثناء بلوچ جیل منتقل

39

دونوں جبری لاپتہ افراد کو ایک سال سے زائد عرصے بعد جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

خضدار سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی “این ڈی پی” کے مرکزی رہنماء غنی بلوچ اور ملتان ائیرپورٹ سے جبری گمشدگی کے شکار ثناء بلوچ منظرعام پر آگئے ہیں۔

غنی بلوچ کو 25 مئی 2025 کو خضدار میں القادری ہوٹل کے قریب ایک مسافر کوچ سے اس وقت اتارا گیا جب ایف سی کی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے گاڑی کی تلاشی کے دوران انہیں اپنی تحویل میں لیا۔

اسی طرح ثناء بلوچ کو 10 اگست کو ملتان ایئرپورٹ سے تحویل میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

دونوں لاپتہ افراد کا سیاسی تعلق نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جبکہ تنظیم نے انکی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان و دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور پریس کانفرنسز کئے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو ایک سال سے عرصہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے بعد ہدہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں سالوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے افراد کو مختلف نوعیت کے کیسز بشمول دہشت گردی کے کیسز میں جیل منتقل کردیا گیا ہے۔