ماری پور، لیاری، گولیمار اور ملیر میں ریاستی جبر ناقابلِ قبول ہے۔بی وائی سی

30

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہےکہ کراچی کے علاقے ماری پوری، لیاری، گولیمار اور ملیر میں ریاستی جبر بلوچ شناخت اور اجتماعی وجود کو دبانے کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ لیاری، گولیمار، ماری پور اور ملیر کو میدانِ جنگ سمجھ کر گھروں پر دھاوے بولنا اور نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا اس ریاستی پالیسی کا ثبوت ہے کہ جس میں لیاری سے ڈی جی خان تک ہر بلوچ محض اپنی شناخت کی بنیاد پر مشکوک اور قابلِ نشانہ ہیں۔

بی وائی سی کے مطابق پولیس، رینجرز، سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں کی کارروائیوں نے کراچی کے بلوچ علاقوں میں خوف، عدم تحفظ اور مسلسل نگرانی کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جہاں عام بلوچ خود کو ریاستی طاقت کے سامنے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ماڑی پور، لیاری، گولیمار، ملیر، گڈاپ، گلشن اقبال اور گلستان جوہر اور دیگر بلوچ آبادیوں میں جاری مسلسل جبر نے اس چیز کو ثابت کرتا ہے کہ بلوچ نسل کشی پالیسی مخصوص علاقے یا جغرافیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر ایک بلوچ ریاست کے نشانے پر ہے۔

بیان میں کہا ہے کہ صرف دو ہفتوں کے دوران ماری پوری, شرافی، لیاری اور گلشن سے درجنوں نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جبکہ بلوچ آبادیوں پر مسلسل چھاپوں، گرفتاریوں اور ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ جبر محض چند افراد کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ بلوچ آبادیوں کو اجتماعی طور پر دباؤ میں رکھنے اور ان کی سیاسی و سماجی زندگی کو مفلوج کرنے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں۔

مزید کہاکہ کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم کے نام پر پوری بلوچ آبادی کو مشتبہ اور محصور بنادیا گیا ہے۔ پورے کراچی میں بلوچ شناخت، بلوچ آبادی اور بلوچ ثقافت کو جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ شاہراہوں پر بلوچی لباس پہنے شخص کو تلاشی کے نام پر اس کی عزت و نفس کو توہین کی جاتی ہے، اس کو تفتیش کے نام پر کئی کئی گھنٹے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر کسی بلوچ کا شناختی کارڈ میں ایڈریس لیاری، ماری پور اور ملیر درج ہے تو وہ شخص ریاست کے سامنہ مشکوک ہے اور اسے کراچی کے عام شہریوں سے الگ کرکے تفشیش کی جاتی ہے۔ لیاری، ملیر، گڈاپ، ماری پور، فقیر کالونی، ڈالمیا اور دیگر بلوچ آبادیوں کو کئی کئی دنوں تک سرچ آپریشن کے نام پر محصور کیا جاتا ہے۔ گھر گھر تلاشی کے دوران خواتین اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی، گھروں کی حرمت پامال کرنا اور خاندانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا انتہائی عام ہوچکا ہے۔ لیاری، ملیر اور ماری پوری میں سرچ آپریشن کے نام پر درجنوں کے حساب سے لوگوں کو پوری پوری رات رینجرز چوکیوں اور پولیس تھانوں میں تفیش کے بہانے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچ عوام کو ان کی شناخت، سیاسی شعور اور اجتماعی وابستگی کی بنیاد پر خوفزدہ کرنے کی کوششیں بلوچ قوم کے خلاف جاری ریاستی جبر کا حصہ ہیں۔ یہ سمجھنا ریاستی پالیسی سازوں کی تاریخی غلط فہمی ہے کہ چھاپوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے ذریعے بلوچ شناخت اور شعور کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ گھروں پر دھاوے بولنے والی طاقتیں نسلوں کے حافظے پر قبضہ نہیں کر سکتیں، زندہ قوموں کو محاصروں میں رکھا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ بلوچ عوام کو خوف کے ذریعے خاموش رکھنے کا زمانہ اب گزر چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کراچی کے بلوچ عوام تنہا نہیں ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والی ہر زیادتی بلوچ عوام کے اجتماعی شعور میں محفوظ ہوتی ہے اور ہر ظلم بلوچ قوم کے اندر اپنے بقاء اور وجود کے دفاع کے لیے اجتماعی عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

آخر میں کہاکہ بلوچ قوم کو جاری اس ریاستی جبر کے خلاف اپنے گھروں سے نکل کر منظم مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، کیونکہ خاموشی جبر کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی بلکہ اسے مزید تقویت دیتی ہے۔ جب ریاستی طاقت کو عوام کی خاموشی اور بے حسی کا سامنا ہو تو وہ اپنے دائرۂ جبر کو مزید وسیع کرتی ہے۔ اس لیے ہر بلوچ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اجتماعی حقوق، شناخت اور وقار کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کرے اور ظلم کے خلاف اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنے۔