ایران سے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں – صدر ٹرمپ

31

تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے امکانات کم ہونے کے باعث بدھ 19 اگست کو تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا، جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔ امریکہ سمیت بڑی معیشتوں میں قرض لینے کی لاگت بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے افراط زر پر اور دیگر مالیاتی اثرات کے بارے میں طویل مدتی تشویش بڑھا دی ہے۔

ایران اور امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی معاہدے کی مدت پیر کے روز ختم ہو گئی۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ سفارتی تعطل کے باعث ایران اپنی فوجی حکمت عملی کو ’’مکمل طور پر جارحانہ‘‘ بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم منگل کے روز دونوں جانب سے کسی نئے حملے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی صدر ٹرمپ  نے منگل کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ کوئی بات چیت ہو رہی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی شیڈول طے ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے۔ آبنائے ہرمز کھلی اور فعال ہے۔ تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکوں سے اڑا دیا گیا ہے۔‘‘

ٹرمپ کی دھمکی

تقریباً چھ ماہ قبل شروع ہونے والا یہ تنازعہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہوا تھا اور اب ایک تعطل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز  میں بحری جہازوں کے لیے خطرات کی دھمکیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کسی طویل مدتی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو وہ دوبارہ حملے کر سکتا ہے۔

امریکہ کے اہم مقاصد میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقصد حاصل کرنا مشکل ہو گا، جب تک ایران میں افزودہ یورینیم کو ان مقامات سے ہٹایا نہیں جاتا جہاں امریکی فوج نے پہلے حملے کیے تھے۔

ایران مذاکرات کے لیے اب بھی تیار

نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے منگل کے روز کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

مخبر نے کہا کہ فوجی دباؤ اور پابندیاں ایران کے عزم کو نہیں توڑ سکتیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی سلامتی، وقار اور اتحادیوں کا دفاع کرے گا، تاہم وہ جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔

روئٹرز نے تین ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ ایران کے رہنما اپنی مشکلات کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ مزید اقتصادی پابندیاں عوامی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہیں، بدامنی کو دوبارہ جنم دے سکتی ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

اس تنازعے میں مجموعی طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ایران اور لبنان میں ہلاک ہوئے۔ ایران نے عمان، اردن، کویت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور بنیادی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا۔

بحری جہازوں کی آمد و رفت متاثر

صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ خلیج فارس میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے، مختلف ممالک کی جانب سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل ڈالنے کی کوششوں کی تصدیقی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا ہے۔ یہ 4 مئی کو فجیرہ کی بندرگاہ پر ہونے والے حملے کے بعد اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

بعد ازاں اس وزارت نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس کے جائزے کے مطابق دونوں میزائل ’سمندری ٹریفک‘ کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے تھے۔ وزارت دفاع کے مطابق دونوں میزائل سمندر میں گرے۔

ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے دعووں کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تبادلے اور مالی لین دین آئندہ فیصلے تک معطل کر دیے ہیں۔