کوئٹہ: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ بلوچ طالبہ بازیاب

33

پاکستانی فورسز نے طالبہ کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ 28 جون کو کوئٹہ کے سمنگلی روڈ سے پاکستانی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے فرسٹ ایئر کی 16 سالہ بلوچ طالبہ رضوانہ ولد گل جان سکنہ مستونگ، کو حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد طالبہ منظرعام پر نہیں آ سکی تھی، تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 11 اگست کو ان کی بازیابی کی تصدیق کردی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان سمیت کراچی سے درجنوں بلوچ خواتین کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے، جن میں متعدد خواتین تاحال منظرعام پر نہیں آ سکی ہیں۔

جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی بعض خواتین کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے بعد ازاں صوبائی حکومت کے ذریعے انہیں پریس کانفرنس کروانے کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں، جہاں ان خواتین پر بلوچ مسلح تنظیموں سے منسلک ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

بلوچستان کی سیاسی تنظیموں اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں حالات کو مزید خراب کرنے کی ذمہ دار ہیں۔

ان اداروں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان سے جبری لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے اور انہیں عدالتوں میں پیش کرکے منصفانہ ٹرائل کا موقع فراہم کیا جائے۔