اسما جتک کیس ۔ ٹی بی پی اداریہ
بلوچستان کے ضلع خضدار کی رہائشی اسما جتک، جنہیں فروری 2025 میں مبینہ طور پر رشتہ دینے سے انکار پر اغواء کیا گیا تھا، حال ہی میں ایک وائرل ویڈیو میں قرآن مجید ہاتھ میں لے کر اپنے اغواء کے ذمہ دار افراد کے خلاف انصاف کی اپیل کرتی نظر آئیں۔ تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد، ماسٹر عنایت اللہ، کو نامعلوم مسلح افراد نے خضدار میں قتل کر دیا۔
اس پورے واقعے کا مرکزی ملزم ظہور جمالزئی نامی شخص قرار دیا جارہا ہے۔ جس کو ایف آئی آر میں بھی نامزد کیا گیا ہے، جن پر اسما جتک کے اغوا کا الزام بھی ہے اور جو اب تک گرفتار نہیں ہو سکے۔
ماسٹر عنایت اللہ کے قتل کے واقعے پر بلوچستان اسمبلی میں احتجاج سامنے آیا۔ یونس عزیز زہری نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ اسما کی ویڈیو وائرل ہونے کے دو گھنٹے بعد ان کے والد کو قتل کیا گیا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسما جتک کے اغواء کے خلاف آواز بلند کرنے والے بہت سے افراد کو بھی نشانہ بناکر قتل کیا گیا، مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ اغواء اور قتل میں ملوث افراد نواب ثنا اللہ زہری کے کارندے ہیں اور انہیں ان کی سرپرستی حاصل ہے، اسی لئے حکومت ان کے سامنے بے بس ہیں۔
بلوچستان میں عرصہ دراز سے قوم پرست اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آرہے ہیں کہ بلوچستان میں مسلح گروہ کھلے عام سرگرم ہیں، جنہیں عام طور پر ’’ڈیتھ اسکواڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان گروہوں کو ریاستی اداروں کی جانب سے اسلحہ، اثر و رسوخ اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
قوم پرست حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان مسلح گروہوں کو بلوچستان میں جاری قوم پرست تحریک کے خلاف پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی سرپرستی میں تشکیل دیا گیا، اور انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے مکمل معاونت حاصل ہے۔ ڈیتھ اسکواڈز کی سرگرمیاں بلوچستان میں صرف سیاسی کارکنوں یا جہد کاروں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان پر اغواء، ڈکیتی، چوری اور دیگر سماجی برائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کئے جاتے ہیں۔
ان گروہوں کو اس حد تک اثر و رسوخ اور تحفظ حاصل ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اگر پولیس ان خلاف کارروائی کرتی بھی ہے تو فوج یا خفیہ اداروں کی مداخلت کے نتیجے میں گرفتار افراد کو رہا کروا لیا جاتا ہے۔ ان مسلح گروہوں کو ایک ایسا استثنیٰ حاصل ہے جو بلاخوف اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مسلح گروہوں کو ریاستی سرپرستی فراہم کرنے جیسی پالیسیوں نے پہلے ہی پیچیدہ صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ان پالیسیوں کے اثرات صرف سیاسی اور سکیورٹی کے دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ مسلسل بدامنی، خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی نے عام شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔












































