نوشکی، دالبندین: پاکستانی فورسز پر حملے، لسبیلہ سے پنجاب کے رہائشی شخص کی لاش برآمد

41

نوشکی میں پاکستانی فورسز پر ایک جبکہ دالبندین میں دو حملوں کے واقعات پیش آئیں۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے اطلاعات کے مطابق گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے سلطان چڑائی کے قریب پاکستانی فورسز کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہاں سے فورسز کا قافلہ گزر رہا تھا۔

مسلح افراد نے بھاری و خودکار ہتھیاروں سے قافلے کو نشانہ بنایا جہاں پاکستانی فورسز کو بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں۔

ادھر دالبندین میں مسلح افراد نے کوئٹہ تفتان تجارتی روٹ پر پاکستانی فورسز اور تجارتی گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا جہاں چالیس منٹ سے زائد علاقے میں شدید فائرنگ و دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اسی طرح مسلح افراد نے دالبندین، بارتاگزی کے مقام پر پاکستانی فورسز کو حملے کا نشانہ بنایا، دونوں حملوں میں پاکستانی فورسز و تجارتی گاڑیوں کو نقصانات کا سامنا رہا ہے۔

مزید برآں لسبیلہ آر سی ڈی شاہراہ پر احمد ولد ربنواز سکنہ لودھرا پنجاب کی لاش مقامی انتظامیہ نے برآمد کرلی ہے، جسے گذشتہ روز مسلح افراد نے حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

واضح رہے کہ مذکورہ علاقوں میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں متحرک ہیں اور جو پاکستانی فورسز و معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں اور ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتے رہے ہیں۔

تاہم ان تازہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔