بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے مختلف محاذوں پر جانبحق ہونے والے اپنے پانچ ساتھیوں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید قدیر بلوچ عرف سعود دوست، قلمی نام (شاعر) سعود سوبین، ولد عبدالرشید، تمپ کے علاقے گومازی کیچ کے رہائشی تھے اور پیشے کے اعتبار سے آٹوز دکاندار تھے۔
“انہوں نے 2013 میں مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی جبکہ اگست 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ ہوئے۔ وہ کلبر، مزنبند اور زامران کے محاذوں پر سرگرم رہے اور کیمپ کمانڈر کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ تنظیم کے مطابق وہ 28 جولائی 2026 کو تربت میں جانبحق ہوئے”۔
تنظیم کے مطابق شہید قدیر عرف سعود دوست بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے گزشتہ تین سالوں سے، جبکہ بلوچ مسلح مزاحمت میں گزشتہ 13 سال کے طویل عرصے تک فعال رہے اور تمام سخت و مشکل حالات سے واقفیت اور ان کا وسیع تجربہ رکھنے والے سرمچار تھے۔
“وہ نہ جنگی میدان میں پیدا ہونے والی کمزوریوں سے مایوس ہوئے اور نہ ہی کسی سرگرمی سے خوش فہمی کا شکار ہوئے، بلکہ وہ مسلسل حرکت و عمل، آگے بڑھنے، دشمن پر زیادہ سے زیادہ ضرب لگانے اور ہر نئے آنے والے چیلنج کے لیے خود کو تیار رکھنے والے سرمچار تھے۔ ان کا 13 سالہ طویل مزاحمتی سفر اور مستقل مزاجی ان کے کردار اور عمل کی نمایاں نشانی ہے”۔
تنظیم کے مطابق شہید قدیر ماضی کے حالات و واقعات اور طور طریقوں تک محدود رہنے یا خود کو ایک ہی حالت میں جامد کرنے پر یقین نہیں رکھتے تھے، اسی لیے انہوں نے حالات کے مطابق خود کو مسلسل تبدیل کیا، جنگ کی حالیہ شدت اور موجودہ تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کیا اور دشمن کے خلاف جارحانہ حکمت عملیوں کے بندوبست اور ان میں بھرپور شمولیت اختیار کی۔
“انہی صلاحیتوں اور خوبیوں کی بنا پر انہیں تنظیم کا کیمپ کمانڈر منتخب کیا گیا، اور انہوں نے اپنی شہادت تک ان ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں نبھایا اور مسلسل دشمن کو ضربیں لگاتے رہے”۔
تنظیم نے بتایا کہ اپنے طویل تجربات کو نئی جنگی حکمت عملیوں اور طریقہ کار کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے انہوں نے کئی مرتبہ دشمن پر مردانہ اور شاطرانہ وار کیے اور اسے سنگین نقصانات پہنچائے، ان کے جنگی تجربات نئے بھرتی ہونے والے ساتھیوں کے لیے ہمیشہ علم کا ایک اہم ذریعہ رہے، جن سے نئے نوجوان مسلسل استفادہ حاصل کرتے رہے۔
بی ایل اے کے مطابق شہید قدیر کا طویل عرصے تک مسلح مزاحمت اور قومی تحریک سے وابستہ رہنا اور آخر تک ثابت قدم رہنا خود ایک عظیم انقلابی کارنامہ ہے، جو تمام سرمچاروں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے، طویل عرصے تک مستقل مزاجی کے ساتھ قومی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا، دشمن پر مسلسل قہر بن کر ٹوٹنا، اور آخرکار خود کو وطن پر قربان کر دینا انہیں بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ ایک عظیم جہدکار کے طور پر یاد رکھے جانے کا سبب بنے گا۔
تنظیم نے اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید مقصود عرف بیبگر ولد عبدالحمید، تمپ کے علاقے تلوکان کے رہائشی تھے، انہوں نے 2023 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور کلبر کے محاذ پر سرگرم رہے، جہاں انہیں گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، تنظیم کے مطابق وہ 28 جولائی 2026 کو تربت میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے کے مطابق شہید مقصود عرف بیبگر نے دشمن کی قبضہ گیری اور اس کی کالونیل پالیسیوں کا بغور جائزہ لیا ان کے کالونیل رویوں کو سمجھا اور قومی غلامی، ذلت اور تذلیل بھری زندگی کا احساس کرتے ہوئے 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی کے قومی آزادی اور بلوچ ریاست کی بحالی کے سیاسی و مسلح مزاحمت کے پروگرام میں عملی شمولیت اختیار کی، تنظیمی فیصلے کے تحت انہوں نے کلبر کے مقام پر کیمپ جوائن کیا ان کا یہ فیصلہ اس تاریخی حقیقت سے جڑا ہوا تھا جو بلوچ تہذیب، تمدن اور ثقافت کا حصہ ہے اور وہ غلامی کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ ہے۔
تنظیم نے کہا کہ بیبگر ان بلوچ روایات سے اچھی طرح واقف تھے جو صدیوں سے بلوچ اپناتے آئے ہیں، اور جن کی بنیاد غیر مقامی قبضہ گیروں کے خلاف مزاحمت اور اپنی آزادی و خودمختاری کی بحالی پر ہے، بیبگر نے ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد خود کو جنگی زونز میں فعال کیا اور دشمن کے خلاف اہم اور سخت عسکری مہمات میں بھرپور حصہ لیا، اپنے متعلقہ تعیناتی ریجن میں وہ تنظیم کاری، بی ایل اے کے نظم و ضبط اور انقلابی رویوں پر مبنی پروگرام سے بھی قوم اور نوجوانوں کو آگاہ کرتے رہے۔
تنظیم کے مطابق بیبگر حالیہ پیش قدمی کی پالیسیوں میں نہایت متحرک اور مسلسل حرکت میں رہنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، میدان جنگ میں جرات کا مظاہرہ کرنے، فعال اور حاضر دماغ رہنے، اور مسلسل انقلابی اصولوں پر کاربند رہنے کی وجہ سے انہیں متعلقہ علاقے میں گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جنہیں انہوں نے بھرپور محنت اور ذمہ داری سے نبھایا۔
بی ایل اے کے مطابق شہید بیبگر آخری لمحوں تک اپنی ذمہ داریوں سے مخلصانہ وابستگی اور تنظیمی سرگرمیوں کو بہترین نظم و ضبط کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیتوں کے باعث جانے جاتے تھے اور ان کی دلیرانہ جنگی صلاحیتیں آخر تک دشمن کے خلاف استعمال ہوتی رہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے تربت کے مقام پر دشمن کے ایک اہم جاسوسی نیٹ ورک کا خاتمہ کرنے اور دشمن پر حملہ آور ہونے کے بعد بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی ان کی قربانیاں ہر آنے والی نسل کو یاد رہیں گی۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید وحید اسحاق عرف باہوٹ ولد محمد اسحاق موسیانی، چشمہ تحصیل زہری، خضدار کے رہائشی تھے اور انہوں نے 2024 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ جولائی 2025 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے وہ قلات کے محاذ پر سرگرم رہے اور 15 جولائی 2026 کو نغاڑ، سوراب کے مقام پر جام شہادت نوش کی۔
بی ایل اے کے مطابق شہید وحید عرف باہوٹ نے اجتماعی اور قومی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے دو سال قبل بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور قلات کے محاذ پر دشمن کے بزدل فوجیوں اور ان کی موجودگی کو تباہ کرنے کے لیے خود کو منظم اور فعال کیا بنیادی ٹریننگ مکمل کرنے اور اہم جنگی حکمت عملیوں سے خود کو آشنا کرنے کے بعد انہوں نے دشمن کے خلاف اہم فوجی آپریشنز اور معرکوں میں حصہ لیا۔
تنظیم نے بتایا کہ وہ ان گوریلا سرمچاروں میں شامل تھے جو دشمن کو وقت اور مواقع دینے یا جنگی منصوبہ بندی کرنے کا موقع نہیں دیتے تھے، بلکہ ان کے کسی بھی منصوبے یا نقل و حرکت سے پہلے ان پر حملہ کرنے اور انہیں نقصان سے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
تنظیم کے مطابق شہید وحید عرف اسحاق قلات کے محاذ پر تنظیم کی تمام فعال سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے اور دشمن کے خلاف اہم ناکہ بندیوں اور شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی پالیسیوں میں پیش پیش رہنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، وہ میدان عمل میں ایک متحرک اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ساتھی تھے وہ تنظیم کی طرف سے دی گئی ہر طرح کی ذمہ داری میں دلچسپی لینے اور اسے مکمل کرنے کے لیے محنت کرنے والے سرمچار تھے۔
بی ایل اے نے بتایا کہ کم وسائل میں نتائج دینا، کسی بھی جنگی معرکے یا عسکری کارروائی کے لیے بھرپور فوجی و ذہنی تیاری کرنا، ہتھیاروں کی صفائی اور منصوبہ بندی میں بھرپور حصہ لینا اور فوجی نظم و ضبط کے مستقل پابند رہنا ان کے نمایاں اوصاف میں شمار ہوتا تھا، یہ فوجی اور انقلابی رویے آخر تک ان سے وابستہ رہے۔
تنظیم کے مطابق انہوں نے آخر تک خود کو فوجی نظم و ضبط اور انقلابی رویوں کا پابند رکھا اور مسلسل دشمن کو سخت سے سخت ضربیں لگاتے رہے، سوراب کے علاقے نغاڑ میں دشمن کی پیش قدمی کی کوشش اور عوام کے خلاف جارحیت کی کوششوں کے دوران انہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن پر وار کیا، اسے پسپائی پر مجبور کیا اور پیچھے دھکیلنے کے بعد اپنے دیگر دو ساتھیوں سمیت عوام اور وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہادت حاصل کی۔
تنظیم نے کہا کہ ان کی قربانیوں کو آنے والی نسلیں فخر کے ساتھ یاد رکھیں گی۔
بی ایل اے کے مطابق شہید محمد رحیم لانگو عرف اسفند ولد جان محمد لانگو، قلات کے رہائشی تھے انہوں نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور قلات کے محاذ پر سرگرم رہے وہ 15 جولائی 2026 کو نغاڑ، سوراب میں شہید ہوئے۔
تنظیم نے بتایا کہ شہید محمد رحیم لانگو نے رواں سال دشمن کی جاریت، بدتہذیبی اور وحشیانہ عزائم کا ادراک کرتے ہوئے قومی آزادی کے عظیم کاروان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا اور بلوچ لبریشن آرمی کی انقلابی صفوں میں شمولیت اختیار کرکے قلات کے محاذ پر دشمن فوج کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔
“کم عرصے میں انہوں نے تنظیم کے انقلابی اور قومی پروگرام کو سمجھ کر خود کو جسمانی و ذہنی حوالے سے تیار کرنے کے لیے فوجی ٹریننگ مخلصی سے مکمل کی”۔
بی ایل اے کے مطابق انہوں نے ٹریننگ کو صرف ہتھیاروں کے بنیادی استعمال اور انہیں چلانے کی حد تک نہیں لیا، بلکہ اسے جنگ کی بہترین اور منظم ترین تیاری کے طور پر قبول کیا اور سخت سے سخت مشقوں کو بھی بھرپور دلچسپی اور نظم و ضبط کے تحت انجام دیا۔
تنظیم نے کہا کہ بنیادی کورسز میں پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے جنگی معرکوں میں حصہ لینا شروع کیا اور ہر جنگی و تنظیمی پیش قدمی میں اپنی جنگی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، دشمن کے کسی بھی گھیراؤ کو توڑنے، میدان جنگ میں حالات کو اپنے حق میں موڑنے اور کسی بھی وقت دشمن پر برتری حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیتیں ان میں موجود تھیں۔
تنظیم کے مطابق وہ گوریلا جنگ کے جدید تقاضوں اور دشمن کی فیلڈ یونٹس کے خلاف بلوچستان کے جغرافیائی فوائد سے آگاہ رہنے والے سنگت تھے اور میدان جنگ میں ان جغرافیائی فوائد سے بھرپور استفادہ حاصل کرتے تھے، گوریلا جنگ میں دستیاب وسائل کی کمی کے باعث وہ ان کے مؤثر استعمال کی ضرورت اور اہمیت سے بخوبی واقف تھے، اور محدود وسائل کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی بہترین صلاحیتیں رکھتے تھے جنگی حالات کا حقیقت پسندانہ ادراک ان کی فوجی صلاحیتوں کا نمایاں حصہ تھا۔
بی ایل اے کے مطابق یہ جنگی اوصاف اور ہنر آخر تک ان میں موجود رہے اور دشمن پر بھرپور وار کرنے کی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ تنظیمی پیش قدمی کی پالیسی کے ایک متحرک سرمچار تھے۔
“انہوں نے دشمن کے ساتھ آمنے سامنے لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی اور اس شعور و فکر کو اپنے لہو سے زندہ رکھا جس کی بنیاد پر انہوں نے جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
تنظیم کے مطابق انسانیت کی عظیم تاریخی تہذیب کے تحفظ اور ریاست کی بحالی کے لیے ان کی قربانیاں ہمیشہ بلوچ قومی یادداشت کا حصہ رہیں گی۔
تنظیم نے اپنے ایک اور ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید شاکر رحمٰن ساسولی عرف اشرف ولد عبدالرشید ساسولی، کلی دتو مستونگ کے رہائشی تھے، انہوں نے 2026 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور قلات کے محاذ پر سرگرم رہے وہ 15 جولائی 2026 کو نغاڑ، سوراب میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے کے مطابق شہید شاکر نے رواں سال دشمن کی یلغار اور بلوچستان کو لوٹنے اور یہاں اپنی حاکمیت قائم رکھنے کے گھناؤنے عزائم کا ادراک کرتے ہوئے قومی مزاحمت میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور بلوچ لبریشن آرمی کی مسلح مزاحمت میں شمولیت اختیار کرکے تنظیمی احکامات کے تحت قلات کے محاذ پر منتقل ہوئے۔
تنظیم نے بتایا کہ انہوں نے تنظیم کی سخت، پروفیشنل اور مشکل جسمانی ٹریننگ میں بھرپور جذبے اور حوصلے کے ساتھ شرکت کرکے پاس آؤٹ ہوئے اور جنگی محاذ پر فعال ہونے کی تمام بنیادی خصوصیات حاصل کرکے مسلح سرگرمیوں میں شامل ہو گئے کم عرصے میں انہوں نے نہایت اثرانداز جنگی اقدامات اپنے نام کیے۔
بی ایل اے کے مطابق ان میں ہر جنگی ہنر اور حکمت عملی کو سیکھنے اور اسے عملی میدان میں ثابت کرنے کی بھرپور دلچسپی موجود تھی اور یہی انقلابی جذبہ اور حوصلہ انہوں نے میدان عمل میں بھی دکھایا وہ جنگ کے میدان میں تذبذب کا شکار ہونے یا بے صبری جیسی غیر جنگی عادتوں سے دور رہتے تھے۔
تنظیم کے مطابق ہر وقت نقل و حرکت ساتھیوں کے ساتھ بہترین رابطہ کاری، بدلتے حالات میں خود کو ڈھالنے، فوری فیصلہ سازی کی صلاحیت، اور ہر سخت و مشکل حالات میں ذہنی توازن قائم رکھنے جیسے اہم اور ضروری فوجی اوصاف کے مالک سرمچار تھے۔
“انہوں نے آخری معرکے تک ان عادتوں کو برقرار رکھا اور مسلسل اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن کی جنگی حکمت عملیوں، پیش قدمی اور دیگر پالیسیوں کو ناکام بنایا، آخری فوجی معرکے تک بھی انہوں نے بہترین جنگی جرات و شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو شدید جانی نقصانات پہنچانے کے بعد شہادت حاصل کی”۔
تنظیم نے کہا کہ شہید شاکر نے اپنی انقلابی سوگند اور عہد کی پاسداری کرتے ہوئے آخر تک وطن کی خدمت کی اور بلوچ سرزمین سے دشمن کو باہر نکالنے کے لیے اپنی انفرادی اور قومی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں نبھایا۔
“انہوں نے پوری قوم کو یہی راہ دکھائی کہ دشمن کے قبضے کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خلاف مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس کا خاتمہ کرنا چاہیے، جو ہماری اجتماعی بقا اور حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ بی ایل اے کے مطابق ان کی قربانیاں قومی تاریخ کے سنہرے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی”۔



















































