وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنے علاقے میں غیر مقامی مسلح جھتوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں، سابق صوبائی کابینہ وزیر کا الزام
بلوچستان حکومت کے سابق کابینہ وزیر عبدالرحمن کھیتران نے کوئٹہ کے صحافی دوران بلوچ کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اپنے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں مسلح جتھوں کو پناہ دے رکھی ہے۔
عبدالرحمن کھیتران کے مطابق سرفراز بگٹی نے چچہ کے علاقے میں ایک اسکول میں 50 سے 60 نامعلوم، لمبے بالوں والے افراد کو ٹھہرایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں ان سے کیا کام لینا چاہتے ہیں اور یہ افراد کہاں سے لائے گئے ہیں۔
ان کے مطابق لائے گئے یہ مسلح جتھے غیر مقامی ہیں، جنہیں مقامی لوگ بھی پہچاننے سے قاصر ہیں۔
سابق وزیر کے بیان کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستان فوج کی جانب سے لاگئے “سابق افغان فوجیوں” سے منسوب کیا جارہا ہے۔ جن کو مسلح کرکے “بلوچ نسل کشی” کا مرتکب ہونے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پر اس سے قبل بھی یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ اور ان کے بھائی ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فورسز کی حمایت میں ڈیتھ اسکواڈز چلاتے ہیں، جو مقامی لوگوں کے اغوا اور قتل میں براہِ راست ملوث ہیں۔
مذکورہ گروہوں کو بلوچستان بھر میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچ آزادی پسندوں، ان کے لواحقین اور سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگی، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن پر مقامی سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور بین الاقوامی اداروں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔



















































