کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6310ویں روز بھی جاری

20

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آج 6310ویں روز بھی جاری رہا۔

احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ حمل خان قمبرانی اور بیبرگ قمبرانی کے والد غلام عباس قمبرانی نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے حمل خان قمبرانی، جنہیں 5 دسمبر 2025 کو دشت، ضلع مستونگ کی ڈیگاری چیک پوسٹ سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا تھا، آٹھ ماہ بعد منظرِ عام پر لائے گئے ہیں اور ہدہ جیل کوئٹہ میں ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا دوسرا بیٹا، بیبرگ قمبرانی، جنہیں 5 دسمبر 2025 کو کلی قمبرانی، کوئٹہ میں ایک شادی کی تقریب سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا تھا، تاحال جبری لاپتہ ہیں اور آج تک ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیبرگ قمبرانی کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔

وی بی ایم پی کے مطابق حمل خان قمبرانی اور بیبرگ قمبرانی کے مقدمات لاپتہ افراد کے کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کیے گئے تھے، جس کے بعد کمیشن نے متعلقہ اداروں کو ان کی بازیابی اور معلومات کی فراہمی کے لیے نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ آٹھ ماہ بعد حمل خان قمبرانی کو منظرِ عام پر لا کر ان کی گرفتاری ظاہر کیا جانا خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے کم از کم ان کے اہلِ خانہ کو جبری گمشدگی کی اذیت سے کسی حد تک نجات ملی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انصاف کی فراہمی کے لیے قائم ادارے ملکی قوانین کے مطابق ان کے مقدمے میں منصفانہ کارروائی کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیبرگ قمبرانی سمیت تمام لاپتہ افراد کو، اگر ان پر کوئی الزام ہے، تو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔