بلوچستان میں بی ایل اے تجارت اور رابطہ کاری کے لیے خطرہ بن گئی۔ ترک میڈیا

79

ترک نشریاتی ادارے نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اب تجارت، بین الاقوامی تجارتی راہداریوں اور معاشی رابطہ کاری کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

17 جون 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان، جو جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کے درمیان ایک اہم زمینی اور بحری رابطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم بی ایل اے کی جانب سے شاہراہوں، ریلوے لائنوں، مال بردار گاڑیوں اور اہم انفراسٹرکچر پر مسلسل حملوں نے اس خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے گزرنے والے تجارتی راستوں پر سکیورٹی خدشات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ متعدد ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیور حضرات سفر سے گریز کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سامان کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ترک میڈیا نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ بی ایل اے کی حکمت عملی محض سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ تنظیم نے ٹرینوں، تجارتی قافلوں اور بنیادی تنصیبات کو بھی اپنے حملوں کا ہدف بنایا ہے۔

بلوچستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اعتزاز احمد گورایہ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب شاہراہوں پر حملے کیے جاتے ہیں، ٹرینوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر کی جاتی ہے تو اس کا مقصد صرف ریاستی اداروں کو چیلنج کرنا نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کا اعتماد بھی مجروح کرنا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق اگر ایسی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں تو طویل المدتی بنیادوں پر بلوچستان اور پورے خطے کی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بلوچستان کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں واقع گوادر بندرگاہ خطے کی اہم ترین گہرے پانیوں کی بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے تجارت اور توانائی کی ترسیل کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بلوچستان میں عدم استحکام کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق دنیا اس وقت آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارتی گزرگاہوں کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہے، تاہم بلوچستان میں زمینی تجارتی راہداریوں کو درپیش خطرات بھی اسی نوعیت کی توجہ کے متقاضی ہیں کیونکہ یہ راستے خطے کی اقتصادی رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ کے اختتام پر خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری حملے اگر نہ روکے گئے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی اقتصادی ترقی، تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔