تفتان میں پھنسے 4 سو بوزر گاڑیاں پاکستان فوج کی سیکورٹی میں نکالے جائیں گے – حکام

34

بلوچستان میں پھنسے سینکڑوں ایل پی جی بوزر گاڑیوں کو نکالنے کا فیصلہ، فوج سیکورٹی فراہم کرے گی – حکام

بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں سینکڑوں ایل پی جی بوزر گاڑیاں شاہراہوں پر عدم تحفظ کے باعث پھنسی ہوئی ہیں جس کے باعث پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔

ایل پی جی کی عدم فراہمی کے باعث فیکٹریوں میں پیداوار متاثر ہونے سمیت علاقوں میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ضلعی حکام کے مطابق تفتان بارڈر پر پھنسے سینکڑوں گاڑیوں کو پاکستان فوج کی قافلوں کی سیکیورٹی میں کوئٹہ و بعدازاں دیگر علاقوں تک پہنچایا جائے گا۔

ابتدائی طور پر چار سو بوزر گاڑیوں کو کل سے تفتان سے نکالنے کا آغاز کیا جائے۔ اس حوالے سے سیکورٹی کلئرینس جاری کرکے گاڑیوں کو دستاویزات کیساتھ تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔

خیال رہے کوئٹہ – تفتان روٹ پر بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول برقرار ہے جہاں دو مہینوں کے دوران پاکستانی فو اور معدنیات لیجانے والی گاڑیوں پر متعدد حملے کیے گئے ہیں جن میں 90 سے زائد گاڑیاں تباہ ہوئی ہے۔

مسلسل حملے باعث معدنیات لیجانے والی گاڑیوں سمیت گڈز ٹراسنپورٹ ایسوسی ایشن نے بھی احتجاجاً لوڈنگ بند کردی ہے اور احتجاج کو سیکورٹی فراہمی سے مشروط کردیا ہے۔

بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ نے گذشتہ دنوں تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری قومی آزادی کی جنگ کے تزویراتی تقاضے اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قابض ریاست کی معاشی شہہ رگ پر فیصلہ کن ضرب لگائی جائے۔ نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مسلح قومی مزاحمت کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ غاصب قوت کے معاشی مفادات کو اس حد تک غیر محفوظ، غیر مستحکم اور خسارے کا سودا بنا دیا جائے کہ اس کے لیئے مقبوضہ سرزمین پر جبری قبضہ برقرار رکھنے کی قیمت، یہاں کے وسائل کی لوٹ مار سے حاصل ہونے والے منافع سے کہیں زیادہ بڑھ جائے۔ جب تک بلوچستان کو غاصب ریاست کے لیئے ایک ناگزیر معاشی بوجھ میں تبدیل نہیں کردیا جاتا، تب تک اس کی اندھی عسکری مہم جوئی اور بلوچ نسل کشی کے ہولناک سلسلے کو روکنا ممکن نہیں، کیونکہ سیندک، ریکوڈک، گوادر، سوئی اور کوئلے جیسے ہمارے گرانقدر قومی وسائل کی بے دریغ چوری ہی قابض پاکستانی فوج کے اس جابرانہ تسلط کو مالیاتی ایندھن فراہم کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی، تمام ٹرانسپورٹ مالکان، ڈرائیوروں اور عوام کو یہ ہدایت جاری کرتی ہے کہ وہ اس استحصالی نوآبادیاتی نظام کا پرزہ بننے سے خود کو فوری طور پر الگ کرلیں۔ مالکان اور ڈرائیورز قومی دولت کی منظم چوری اور استحصالی کمپنیوں کے لیئے ایندھن، رسد یا کسی بھی قسم کی لاجسٹک ترسیل کا حصہ بننے سے مکمل طور پر گریز کریں، جبکہ عام مسافر اور شہری اپنی جان ومال کی حفاظت کی خاطر ان شاہراہوں پر سفر کے دوران فوجی قافلوں، قابض فورسز کی تحرک اور استحصالی پروجیکٹس کی گاڑیوں کے قریب رہنے سے سختی سے پرہیز کریں۔ ہماری یہ جنگ بلوچ قوم کی مکمل خودمختاری، قومی وقار اور غیر مشروط آزادی کی جنگ ہے، اور جب تک بلوچ سرزمین سے غیر ملکی تسلط، غاصبانہ لوٹ مار اور نوآبادیاتی جبر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہماری یہ معاشی ناکہ بندی اور عسکری مزاحمت پوری شدت اور وسعت کے ساتھ جاری رہے گی۔