کمانڈر بانڑی سے کمانڈر شہناز تک – بادوفر بلوچ

1

کمانڈر بانڑی سے کمانڈر شہناز تک

تحریر: بادوفر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شہناز محض علامت نہیں، شہناز ایک عہد، جہد میں ایک ناتمام تسلسل، تحریک میں ایک ارتعاش اور بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں ایک معتبر انقلاب اور اس انقلاب کی بیچ ایک انتہائی گہرا اور واضح ستون ہے۔

سولہویں صدی میں مغل سلطنت کے مغل بادشاہ ہمایوں، شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے تو عظیم لیڈر میر چاکر خان رند نے اپنے بیٹے میر شہداد اور اٹھارہ بیٹوں سمیت چالیس ہزار بلوچ لشکر کو مغلوں کی مدد کے لیے بھیجا۔ یہ بلوچ لشکر دہلی اور اس کے آس پاس علاقوں میں سوری افواج کے خلاف میدانِ جنگ میں اترے۔

جنگ کا میدان شدید تھا۔ تلواروں کی چنگاریاں آسمان کو چھو رہی تھیں، نیزوں کی بارش ہو رہی تھی اور خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ بلوچ جنگجو، جو بہادری کی مثال تھے، دشمن کی بہت بڑی تعداد اور حکمتِ عملی کے سامنے تھوڑا سا پسپا ہونے لگے۔ عزت کا معاملہ تھا؛ بلوچ روایت میں پسپائی کو سب سے بڑی ذلت سمجھا جاتا ہے۔

اس دوران میر شہک رند بلوچ کی بیٹی اور عظیم لیڈر میر چاکر خان رند کی بہن بی بی بانڑی جو لشکر کے ساتھ تھیں، یہ منظر دیکھ کر خاموش نہ رہ سکیں۔ ان کے دل میں بلوچ عزت کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ عورت تھیں مگر بلوچ عورت تھیں۔ انہوں نے اپنے بازوؤں کو گھٹنوں سے ٹکرا کر چوڑیاں توڑ ڈالیں؛ یہ ایک عورت کی مزاحمت کی علامت تھی۔ چوڑیاں عورت کی نرمی اور گھریلو زندگی کی نشانی تھیں، انہیں توڑ کر انہوں نے اعلان کیا کہ اب وقتِ جنگ ہے، اب عورت بھی مرد کی طرح تلوار اٹھائے گی۔

وہ تلوار ہاتھ میں لے کر میدانِ جنگ میں بطورِ خود کمانڈ اتر آئیں۔ اور جنگ کا کمانڈ سنبھالنے لگیں، ان کا قدِ باہمت، آنکھوں میں آگ اور تلوار پر خون کی دھاریں دیکھ کر بلوچ لشکر حیران رہ گیا۔

ان کی بہادری نے مردوں کے حوصلے بحال کر دیے۔ وہ خود آگے بڑھیں، دشمن کے سپاہیوں کو کاٹتیں، نیزوں سے چھلنی کرتی رہیں اور اپنے بلوچ لشکر کو جوش دلاتی رہیں۔ ان کی تلوار نے بہت سے دشمنوں کو ڈھیر کر دیا۔ اور سامنے نظر آنے والی شکست کو جیت میں بدل کر تاریخ بدل دی۔

کمانڈر بی بی بانڑی صرف ایک جنگجو کمانڈر نہیں تھیں وہ بلوچ عورت کی طاقت، عزت اور قوم پرستی کی علامت تھیں۔ بلوچ لوک داستانوں، شاعری اور زبانی روایات میں ان کا تذکرہ آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ بلوچ معاشرے میں عورت مرد کے برابر ہے، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی آگے۔

سولہویں صدی میں کمانڈر بانڑی بلوچ اور آج اکیسویں صدی میں کمانڈر شہناز بلوچ، گوکہ بی بی بانڑی بلوچ اپنی لشکر کی شکست دے کر میدانِ جنگ میں اتریں جو آج تک بطورِ بلوچ خاتون بہادری کی تاریخی علامت یاد ہو رہی ہیں، اور کمانڈر شہناز اپنی بلوچ لشکر کی شکست نہیں بلکہ اپنی سرزمین کی قومی آزادی کی جاری جنگ میں شعوری و فکری اور نظریاتی طور پر بندوق اٹھا کر بطورِ کمانڈر قبضہ گیر دشمن کے خلاف میدان میں اتر چکی ہیں۔

کمانڈر شہناز وہ معنی خیز اور واضح سمت کی تعین ہیں جو بلوچ مرد اور خواتین کو اپنی کردار اور عمل سے تاریخ شناسی سے آشنا کرتی ہوئی یہ احساس ذمہ داری دلا رہی ہیں کہ محض تاریخ شناسی اور تاریخ کے مطالعے سے نہ ہی کوئی تاریخ بنتی ہے، نہ ہی قوموں کی تاریخ بدلتی ہے، نہ ہی زندہ رہ سکتی ہے۔

قوموں کی تاریخ بدلتی ہے، زندہ رہتی ہے اور اپنے آپ کو اس وقت دوبارہ دوہراتی ہے جب قومی عمل اور قومی کردار کا معیار واقعی تاریخی ہو۔

دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک جھوٹ یہ ہے کہ بدترین حالات انسان کو ہرا دیتے ہیں۔ کائنات کا ایک انتہائی سفاک اور تلخ سچ یہ ہے کہ انسان کبھی ناموافق حالات، بحرانوں اور دشمنوں سے نہیں ہارتا؛ وہ اس دن ہارتا ہے جب وہ اپنے اندر بیٹھے ہوئے جنگجو کو، اپنی امید کو، اور اپنی خود اعتمادی کو خود اپنی غیر مستقل مزاجی کے ہاتھوں قتل کر دیتا ہے۔

1952 میں ایک امریکی ادیب ارنسٹ ہیمنگوے نے ایک پتلی سی کتاب لکھی، جس کا نام تھا “The Old Man and the Sea”۔ بظاہر یہ ایک بوڑھے مچھیرے اور ایک مچھلی کی کہانی تھی، لیکن درحقیقت یہ انسانی برداشت، رواقی فلسفہ (Stoicism) اور کسی بھی ہارے ہوئے انسان کے دوبارہ ‘ناقابلِ تسخیر’ (Invincible) بننے کا وہ بے رحم بلیو پرنٹ تھا جس نے ہیمنگوے کو ادب کا نوبل انعام دلا دیا۔
جنگیں ہیروز نہیں بناتیں ورنہ ہر جنگجو ہیرو ہوتا؛ ہیرو جنگوں کو تخلیق کرتے ہیں اور جنگ میں خود جنگ بن کر جنگ کو اپنی مقدس عقیدہ ماننے لگتے ہیں۔

جنگ کو اپنی مقدس مسیحاء، جنگ کے ساتھ انصاف، جنگ کو بطورِ جنگ تقاضات اور لوازمات کو فرض شناسی اور ایمانداری سے پورا کرنا ہی جنگ کو تخلیق کرنے والے تاریخ میں ہیروز ہوتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔