بارود میں لپٹی سرزمین – راسکوہ بلوچ

15

بارود میں لپٹی سرزمین

تحریر: راسکوہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جنوبی ایشیا میں ایک گل زمین ہے جسے دنیا بلوچستان کے نام سے جانتی ہے۔ کبھی یہاں لہروں کی آواز شام کے وقت کسی پرکشش قدیم لوری کی طرح سنائی دیتی تھی، اور پہاڑوں کے دامن میں سناٹا بھی ایک نغمے کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ بچے ریت پر اپنے ننھے قدموں سے ایسے نقش بناتے تھے جیسے وقت کی پیشانی پر کوئی معصوم دعا لکھ رہے ہوں۔ اب حالات مختلف ہیں، وہی بلوچستان بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے، اور وہی ساحل جو کبھی لوریاں سنایا کرتا تھا، اب صرف چیخیں سنتا ہے۔

جو نسل بچپن ہی سے تباہی کا مشاہدہ کرے، اس کے لیے اعتماد اور امن کا تصور محض کتابی سطر بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ بچے جو ابھی حروفِ تہجی سیکھنے کی عمر میں تھے، اب دھماکوں کی آوازوں کو پہچاننے لگے ہیں۔ ان کے کھیلوں میں جیٹ طیاروں اور پناہ گاہوں کے استعارے شامل ہو گئے ہیں، اور ان کے خوابوں میں بھی اب پرندوں کی جگہ لڑاکا طیارے اڑتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ مسلسل خوف انسان کے باطن میں ایک مستقل سایہ چھوڑ جاتا ہے، ایسا سایہ جو کبھی عمر بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔

یہی وہ سایہ ہے جو گدر کی خاموش فضا میں مزید گہرا ہو گیا، جب لوگ زوردار دھماکوں سے جاگ اٹھے۔ ہر سو دھوئیں اور گرد کا طوفان تھا۔ جیسے ہی گرد بیٹھنے لگی، لوگوں کی آنکھوں نے ایک ایسا منظر دیکھا جسے کسی فلم، کسی خواب، کسی ڈراؤنے خیال میں بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی پوری دنیا اس ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ ان کا آشیانہ، جو کبھی محبت، تحفظ اور خوشبو سے لبریز تھا، قابض پاکستان کے ایک جیٹ طیارے سے داغے گئے میزائل کے سامنے ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

12 اگست کے روز قابض پاکستان کی طرف سے بلوچستان کے علاقے سوراب، گدر پر کیے گئے اسی فضائی حملے کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت 27 بلوچ شہری جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے۔ صبح کے دھندلکے میں جب کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھی ہوتی ہے، تو اس کی آنکھوں میں وہی سوال تیرتا ہے جو صدیوں پہلے جنگ زدہ بستیوں کی عورتوں کی آنکھوں میں نظر آتا تھا: آخر ہمارے نصیب میں یہ آزمائش کیوں لکھی گئی؟ یہ سوال نہ پہلی بار پوچھا گیا ہے، اور نہ شاید آخری بار۔

بلوچستان اب کوئی جغرافیائی حقیقت نہیں رہا۔ یہ اب ایک اجتماعی قبر ہے، جہاں ہر دن نئی قبریں کھودی جاتی ہیں، مگر کوئی کتبہ نہیں لگتا؛ نہ نام، نہ تاریخِ پیدائش، نہ تاریخِ وفات۔ بس ایک ہجوم ہے جو اپنا ماضی، حال اور مستقبل اپنی آنکھوں کے سامنے دفن ہوتا دیکھ رہا ہے۔

جب ہم ان اقوال کو یاد کرتے ہیں جو دنیا کی خوبصورتی میں شرارتی و چنچل بچوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں، اور پھر بلوچستان میں ہونے والے ایسے فضائی حملوں کو دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ قابض پاکستان کو جتنا بھی ظالم، بے حس اور سفاک کہا جائے، کم ہے۔ یہ صرف جنگی کارروائی نہیں، بلکہ انسانی شرف کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ ظاہر ہے، یہ ظلم دیکھ کر بلوچ قوم میں کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا، اور نہ ہی خاموش رہنا کسی زندہ ضمیر کے لیے ممکن ہے۔ بلوچستان کی حالیہ جنگ میں قابض پاکستان نے ہزاروں بلوچ بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو شہید کر ڈالا ہے، اور بلوچستان پر قابض پاکستان کی جاری کارروائیوں کا ہر دن ایک نیا اور خونی باب کھول رہا ہے، مگر ہر بار جواز نیا اور نام یہی رہا: ’’دہشت گردی کے خلاف کارروائی۔‘‘

بلوچستان میں بلوچ بچوں اور عورتوں کو قابض پاکستانی حکومت نے اپنی تقاریر، بیانات، پارلیمنٹ، میڈیا اور سوشل میڈیا کے بیانیے میں واضح طور پر ’’دہشت گرد‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ مگر افسوس، کچھ لوگ خود کو بلوچ کہتے ہوئے بھی بچوں اور عورتوں کے قتل کو دہشت گردی کے نام پر جواز فراہم کر رہے ہیں۔ انہیں صرف اپنی کرسی کا خوف ہے، سچ کا نہیں۔

سوراب، گدر کا یہ ایک واقعہ کوئی الگ تھلگ سانحہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور تلخ تاریخ کی ایک اور کڑی ہے۔ اس تاریخ کو سمجھنے کے لیے پیچھے جھانکنا پڑتا ہے، ان اصولوں کی طرف جو دنیا نے انسانیت کے تحفظ کے لیے وضع کیے تھے۔ نسل کشی کا شمار دنیا کے سنگین ترین جرائم میں ہوتا ہے، اور یہ درجہ اسے دوسری عالمی جنگ اور یہودیوں کے قتلِ عام کے بعد دیا گیا۔ نسل کشی کی روک تھام اور سزا کے عالمی کنونشن نے، جو بین الاقوامی سطح پر اس ضمن میں بنیادی قانون سازی ہے، اس جرم کی تعریف کچھ یوں بیان کی: کسی قومی، نسلی، لسانی یا مذہبی گروہ کو، خواہ مکمل ہو یا جزوی، تباہ کرنے کے ارادے سے کیا جانے والا کوئی بھی عمل۔ اس کے ساتھ ساتھ روم اسٹیٹیوٹ اور جنیوا کنونشنز نے بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو قانونی طور پر متعین کیا۔

یہی وہ پیمانہ ہے جس پر رکھ کر دیکھا جائے تو بلوچستان کی کہانی صرف ایک دن یا ایک حملے کی نہیں۔ قابض پاکستان نے بلوچستان پر 27 مارچ 1948ء کو جبری قبضہ کیا، اور اس دن سے لے کر آج تک کے 78 سالوں میں بلوچ قوم اپنی قومی شناخت کے سبب مسلسل بدترین مظالم جھیل رہی ہے۔ اس عرصے میں قابض پاکستان نے بلوچ شناخت کو ختم کرنے کی خاطر ہر طرح کا حربہ آزمایا، اور قوم کے ہر فرد کو اسی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔

اس مہم کا سب سے خطرناک ہتھیار جبری گمشدگیاں قرار دی جاتی ہیں۔ اب تک ہزاروں، بلکہ کہا جائے تو لاکھوں افراد اس کا شکار بن چکے ہیں۔ ان میں سے کئی ہزار افراد کو ایک روز سے لے کر 15 سے 20 برس تک خفیہ اداروں کے عقوبت خانوں میں محبوس رکھا گیا، جہاں انہیں سنگین جسمانی و ذہنی اذیتوں سے گزارا گیا۔ بعض کو نیم مردہ حالت تک پہنچا کر چھوڑ دیا گیا، ہزاروں تاحال ان خفیہ سیلوں میں بند ہیں، جبکہ سینکڑوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کی مسخ شدہ لاشیں سنسان علاقوں میں پھینک دی گئیں۔ یہ سلسلہ آج تک اسی طرح چل رہا ہے۔

بلوچستان کی زمین سے کئی اجتماعی قبریں بھی برآمد ہوئیں، جن میں سب سے بڑی 2013ء میں خضدار کے علاقے توتک میں ملی، جہاں سے سو سے زیادہ مسخ شدہ لاشیں نکالی گئیں۔ گویا وہی استعارہ جو سوراب، گدر کے ملبے میں دفن نظر آیا: بلوچستان اب کوئی جغرافیائی حقیقت نہیں، بلکہ ایک اجتماعی قبر ہے۔ یہاں یہ لفظوں سے نکل کر زمین کی سچائی بن چکا ہے۔ گزشتہ 78 برسوں کے دوران قابض پاکستان نے بلوچستان میں سینکڑوں فوجی کارروائیاں کیں، جن کی سختی سے پورا خطہ اور اس کی آبادی متاثر ہوئی۔ ہزاروں بلوچ شہری بلا تفریق قتل کیے گئے۔ کبھی جبری گمشدگی کے بعد لاش مسخ کر کے ویرانے میں پھینکی گئی، کبھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، کبھی سیاسی جلسوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، اور کبھی جعلی مقابلوں یا ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے جان لی گئی۔

ریاست نے منشیات فروشوں، مذہبی شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد پر مشتمل نجی لشکر بھی کھڑے کیے، جنہیں مقامی لوگ ان کے مظالم کی وجہ سے ’’ڈیتھ اسکواڈ‘‘ پکارتے ہیں۔ یہ اسکواڈ خفیہ اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے اشارے پر جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، صحافیوں، اساتذہ اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کو ہراساں کرنے، ان کے خاندانوں کو دھمکانے، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور چوری چکاری جیسے کاموں میں مصروف ہیں۔ کئی علاقوں کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کر کے ان کی اراضی پر قبضہ کر لیا گیا۔

مگر یہ ظلم صرف بندوق اور بارود تک محدود نہیں رہا۔ کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کا استعمال عالمی قانون کی رو سے جرم شمار ہوتا ہے، اور 1998ء میں چاغی، راسکوہ کے مقام پر قابض پاکستان نے شہری بستیوں کے عین قریب، کسی حفاظتی انتظام کے بغیر، اپنے جوہری تجربات کیے۔ 28 برس بیت جانے کے باوجود اس علاقے کے باسی آج بھی مہلک امراض کا سامنا کر رہے ہیں، اور ڈیرہ غازی خان میں یورینیم کی باقیات کے باعث ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی بیماریاں عام ہو چکی ہیں، جن کی زد میں ہزاروں بلوچ شہری ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق، اگر جوہری تجربات کے اثرات پر قابو نہ پایا جائے تو موسم بگڑ جاتا ہے، زیرِ زمین پانی نیچے اتر جاتا ہے، بارشیں تھم جاتی ہیں اور زمین بنجر ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی بینائی کا زوال، ادھوری پیدائشیں اور دیگر عارضے بھی جنم لیتے ہیں۔ ایسی ہی صورتِ حال ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے مقامات پر دیکھی جا چکی ہے، جہاں جوہری حملے ہوئے تھے۔

اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہ ہو، قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود بلوچستان سب سے پسماندہ خطہ شمار ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی سڑکوں کا فقدان ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ حادثات میں جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اور یہ بھی نسل کشی کی ایک شکل سمجھی جاتی ہے، کیونکہ جان بوجھ کر صرف سنگل روڈ بنائی جاتی ہے۔ منشیات کے پھیلاؤ کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو ’’نرم پالیسی‘‘ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور قابض پرانی پالیسیوں کو نئے روپ میں دہرا رہی ہے۔ فوجی آپریشن، جبری گمشدگیاں، لاشیں پھینکنا اور ایٹمی تجربات—یہ سب اس بیانیے میں براہِ راست نسل کشی کی مثالیں گنی جاتی ہیں۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں سوراب، گدر پر گرنے والا ہر بم صرف ایک حملہ نہیں، بلکہ ایک طویل سلسلے کی کڑی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ بچوں اور عورتوں کو پاکستانی حکومت نے اپنی تقاریر، بیانات، پارلیمنٹ، میڈیا اور سوشل میڈیا کے بیانیے میں واضح طور پر ’’دہشت گرد‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے، تاکہ ہر گولی، ہر میزائل اور ہر جبری گمشدگی کو ایک جواز مل سکے۔ مگر تاریخ، اجتماعی قبریں، اور ان ماؤں کی آنکھیں جو آج بھی اپنے لاپتہ بچوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی ہیں، وہ سچ بولتی ہیں جسے کوئی بیانیہ چھپا نہیں سکتا۔

مگر تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ظلم، چاہے کتنا ہی طویل اور سفاک کیوں نہ ہو، ابدی نہیں ہوتا۔ جو قومیں اپنی گل زمین، اپنی زبان اور اپنی پہچان کے لیے صدیوں تک ڈٹی رہیں، وہ کبھی مٹائی نہیں جا سکیں۔ بلوچستان کے یہ آنسو، یہ لاپتہ چراغ، یہ اجتماعی قبریں—یہ سب ایک دن سوال بن کر کھڑے ہوں گے، اور کوئی بیانیہ، کوئی جھوٹا جواز اس سوال کا سامنا نہیں کر پائے گا۔ جب تک ایک بھی ماں اپنے بچے کے انتظار میں دروازے پر بیٹھی ہے، جب تک ایک بھی بہن اپنے بھائی کی واپسی کی دعا مانگ رہی ہے، تب تک بلوچستان کی یہ آواز خاموش نہیں ہوگی۔ یہ سرزمین، جو کبھی لوریوں سے گونجتی تھی، ایک دن پھر سے امن کا گیت گائے گی۔ مگر اس دن تک، ہر آنسو، ہر لاش اور ہر خاموشی گواہ رہے گی کہ یہاں انصاف کا قرض ابھی چکایا نہیں گیا۔

اختتام میں مجھے استاد اسلم بلوچ کے یہ الفاظ یاد آ رہے ہیں:

’’یہ جنگ ہمارے ہاتھوں سے زیادہ پنجابی کے ہاتھ میں ہے، پنجابی آرمی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اس کو کس طرح لے جانا چاہتا ہے، وہ زیادہ بلوچ پر پریشر ڈالے گا، زیادہ دبانے کی کوشش کرے گا، زیادہ اُبھریں گے، وہ زیادہ بے رحمی کرے گا، عورتوں اور بچوں کو مارے گا، پھر ہمیں مجبوراً وہ قدم اٹھانا پڑے گا۔ وہ بے گناہ بلوچوں کو مار رہا ہے، پھر ہم مجبور ہوں گے، کہیں نہ کہیں جا کے ہم بھی مجبور ہوں گے، صرف اور صرف اس کو سکھانے کے لیے، سبق دینے کے لیے۔ وہ سکتا ہے، اگر وہ کل کو بہت زیادہ بمباری کرے گا ہمارے عام لوگوں پر، جو پہلے کی ہے۔ اس کا شاید اس وقت تک ہم صبر سے کام لے رہے ہیں۔ وہ سکتا ہے، ہمارے ٹارگٹ اسلام آباد بھی ہو، لاہور بھی ہو، ہمارا ٹارگٹ پنڈی بھی ہو۔‘‘


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔