شہید قادر جان کُرد: ایک عظیم کردار – آمنہ بلوچ

15

شہید قادر جان کُرد: ایک عظیم کردار

تحریر: آمنہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سرزمین کی محبت ایک ایسی گہری محبت ہے جو انسان کو تمام وقتی خواہشات اور ضروریات سے پاک کرکے ایک عظیم مقصد کے لیے تیار کرتی ہے، اور یہی مقصد ایک عام انسان کو تاریخ کے پنوں میں ایک عظیم کردار بناتا ہے۔ آج میں بھی ایک ایسے عظیم کردار کے مالک اور قومی شہید کے بارے میں لکھ رہی ہوں، جس کا نام شہید قادر جان کُرد ہے۔

جی ہاں، شہید قادر جان کُرد ایک معصوم سا چہرہ اور خوش مزاج انسان تھے، جو ہمیشہ خاموش اور نرم طبیعت کے مالک تھے، لیکن انہوں نے اپنی قومی غلامی کو محسوس کیا اور پھر قومی تحریک میں شامل ہوگئے۔ یہی وہ احساس اور جذبہ ہے جو ظلم اور جبر کے خلاف پیدا ہوتا ہے۔ اس جذبے کو عملی شکل دے کر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ انقلابی مزاحمت کا راستہ ہمیشہ کٹھن اور سخت ہوتا ہے، لیکن قومی جذبہ اور مضبوط فکر کے لوگ اس مشکل راستے کے تمام تر سخت حالات کو بخوشی برداشت کرتے ہیں اور آخری دم تک اپنے نظریات کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دنیا کی کوئی طاقت نہ شکست دے سکتی ہے اور نہ ہی کمزور کر سکتی ہے۔

شہید قادر بخش کُرد کا تعلق ضلع مستونگ کی تحصیل دشت، خلق جلب گندان سے تھا۔ اپنے تعلیمی مقصد کے لیے شال کا رُخ کیا، جہاں وہ اپنے چچا کے گھر میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے گرامر اسکول چیلنچر سے اپنا انٹرمیڈیٹ کر لیا، پھر ڈگری کالج سریاب سے ایف ایس سی کر لیا۔ آگے تعلیم جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بی ایس میں داخلہ لیا۔

شہید قادر جان تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وطن سے محبت کا اظہار اپنی شاعری میں کرتے تھے۔ سرزمین کی محبت ایک فطری عمل ہے جو قدرت کی طرف سے انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک عام انسان اپنے وطن کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس محبت کا اظہار وہ اپنی شاعری یا کردار سے کرتا ہے۔ اسی چیز نے شہید قادر جان کو ایک الگ پہچان دی۔

اپنی سرزمین، قوم اور تاریخ کی جستجو نے انہیں مزاحمت کا راستہ دکھایا، اور اسی راستے پر ہمارے آباؤ اجداد نے قربانی کے فلسفے کو زندہ رکھا۔

شہید قادر جان بھی اسی فلسفے کے سپاہی تھے، جو ہمیشہ اپنی قومی مزاحمت کو زندہ رکھنے کے لیے تیار کھڑے رہتے تھے۔ آج ہزاروں بلوچ فرزند اسی نظریے سے وابستہ ہیں۔ شہید قادر جان نے بھی ہزاروں قومی شہیدوں کی طرح اپنی سرزمین پر ظلم اور جبر دیکھا اور محسوس کیا کہ کس طرح یہ ریاست ہمارا نام و نشان مٹانے اور نسل‌کشی کرنے کے لیے برسرِپیکار ہے۔ اس ریاست نے بلوچ سرزمین پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی تمام تر قوت بلوچوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش پر لگا دی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی سے لے کر ماؤں اور بہنوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے تک، ہر حکمتِ عملی استعمال کی گئی۔ بلوچ ماؤں کے دوپٹوں کو کھینچ کر اس ریاست نے بلوچوں کو ان کی غلامی کا احساس دلایا۔ یہی وہ درد ہے جس نے شہید قادر جان جیسے فرزندوں کو مزاحمتی تحریک کا راستہ دکھایا۔

آج بلوچ نوجوانوں نے اپنے خون کے ہر قطرے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ریاست کے ظلم اور جبر کے خلاف ہم ہمیشہ کمربستہ کھڑے ہیں، اور مزاحمت ہم پر فرض بن چکی ہے۔

شہید نے بلوچستان کی جنگ زدہ فضاؤں میں سانس لیا۔ انہوں نے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا۔ وہ اپنی مادرِ وطن کے نڈر اور بہادر سپوت تھے، جنہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہمارے سامنے کتنا طاقتور دشمن ہے، بلکہ وطن کی محبت اور مضبوط نظریے نے ان کے حوصلے بلند کر دیے، جس نے دشمن کے غرور کو چُور چُور کرکے رکھ دیا۔

میں فخر کرتی ہوں شہید قادر جان اور ان ہزاروں شہیدوں پر، جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع اور قومی شناخت کے تحفظ کے لیے خود کو قربان کر دیا اور بلوچ تاریخ میں امر ہوگئے۔ بلوچ نوجوانوں کو اپنے شہیدوں کے کارواں کا حصہ بن کر اس تحریک کو منزل تک لے جانا ہوگا۔ یہی ہمارے شہیدوں کا خواب تھا۔ اب اس خواب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہر بلوچ فرزند پر فرض ہے۔

کبھی وہ دن بھی آئے گا جب آزاد ہوں گے ہم
شہیدوں کے مزاروں پر لگیں گے ہر برس میلے

شہید قادر جان کُرد، حرفِ نظر بلوچ، سمیت تمام قومی شہیدوں کو سُرخ سلام۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔