بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے یکم جون سے دس جون کے دوران مختلف علاقوں میں پندرہ کاروائیاں سرانجام دی جن میں قابض پاکستانی فوج پر آئی ای ڈی حملوں سمیت براہ راست مسلح حملے شامل ہیں جبکہ سرمچاروں نے تین پولیس تھانوں اور چوکیوں پر کنٹرول حاصل کرنے سمیت جھڑپوں میں قابض فوج کی گاڑیاں اور اسلحہ اپنی تحویل میں لیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کے چھبیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ترجمان نے کہاکہ یکم جون: مستونگ، کردگاپ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پوسٹ کو مارٹر گولے فائر کرکے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور مزید چار زخمی ہوگئے۔ اسی روز کردگاپ میں قابض فوج کیساتھ جھڑپوں میں تین سرمچار سنگت مقبول، سنگت صلاح الدین اور سنگت وحید شہید ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ 3 جون: نوشکی، احمد وال میں پھاٹک کے مقام پر قابض فوج کے قافلے کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جس میں دشمن کے کم از دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی روز قلات کے علاقے منگچر میں ایک آئی ای ڈی حملے میں قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک اہلکار کو ہلاک اور دو کو زخمی کردیا گیا۔
قابض پاکستانی فوج نے پنجگور چیدگی کے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جہاں طویل جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ جھڑپوں میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ہیلی کاپٹر کو سرمچاروں نے بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بناکر نقصان پہنچایا۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے تین جانباز سرمچار سنگت تلار، سنگت بابر اور سنگت خلیل شہید ہوگئے۔
ترجمان نے کہاکہ زامران، وکائی میں کرپاسی کے مقام پر قابض فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں تباہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی روز تگران میں کلگ کے مقام پر قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو سرمچاروں نے آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔
6 جون: قلات، اسکلکو میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیدل پیش قدمی کررہے تھے، حملے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر اہلکار اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ گئے۔ بعدازاں قابض فوج نے بکتر بند گاڑیوں میں علاقے میں پیش قدمی کی کوشش جس پر سرمچاروں نے ایک دفعہ پھر مختلف سمت سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے مزید چار اہلکار ہلاک و متعدد زخمی ہوگئے جبکہ سرمچار قابض فوج کی ایک بکتر بند گاڑی و فوجی سامان اپنی تحویل میں لینے میں کامیاب ہوئے۔ شکست خوردہ قابض فوج نے عام آبادیوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی اور مارٹر گولے فائر کیئے۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے سرمچار سنگت کاکا ظہیر شہید ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ اسی روز زامران کے علاقے جابشان میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ایک آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
مزید برآں خضدار کے علاقے زہری، بلبل میں قابض فوج کو اس وقت حملوں میں نشانہ بنایا جب دشمن فوج نے ٹینک، بکتر بند اور دیگر گاڑیوں میں علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی، دس گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں قابض فوج کے چار سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہاکہ تربت، کلاتک میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ایک اعلیٰ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) ارسلان حلیم کو اس کے تین دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اس وقت حملے میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا جب وہ ناصر آباد میں قابض فوج کے کیمپ سے تین گاڑیوں میں نکلے تھے۔ مذکورہ ایم آئی آفیسر بھیس بدل کر ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کی سیکورٹی میں نقل و حرکت کررہا تھا جس پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس زراب نظر رکھے ہوئے تھی۔ سرمچاروں نے زراب کی مستند و خفیہ معلومات کی بناء پر کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ گاڑی میں سوار اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیتے ہوئے موقع پر ہلاک کردیا۔
جبکہ 7 جون: کیچ کے علاقے گورکوپ، کلگ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو مسلح حملے میں نقصانات سے دوچار کیا۔
انہوں نے کہاکہ 8 جون: نوشکی، احمد وال میں پھاٹک کے مقام پر سرمچاروں قابض فوج کے اہلکاروں کو لیجانے والے بسوں کے قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، ایک بس کی براہ راست حملے کی زد میں آنے سے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔
9 جون: تربت شہر میں بلوچ لبریشن آرمی کی اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) کے سرمچاروں نے ایک پیچیدہ و منظم حملے میں قابض فوج کے چوکی کے دروازے پر اس وقت ایک مقناطیسی بم نصب کرکے تباہ کردیا جب چوکی میں چار اہلکار موجود تھے۔
مزید کہاکہ دکی، نرہن پولیس تھانے کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک منظم حملے میں نشانہ بنانے کے بعد کنٹرول حاصل کیا۔ اس دوران ایک اہلکار نے مورچہ زن ہوکر سرمچاروں پر حملہ کیا جس کو سرمچاروں نے جوابی حملے میں ہلاک کردیا۔ سرمچاروں نے تھانے کو مکمل کنٹرول میں لینے کے بعد وہاں موجود اسلحہ و دیگر فوجی ساز و سامان اپنی تحویل میں لیا جبکہ پولیس اہلکاروں کو رہا کردیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ 10 جون: بی ایل اے کے سرمچاروں نے پشین کے علاقے دینار میں پولیس تھانہ سلطان اور قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان، دولنگی میں گیلو پولیس چوکی کر کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود اہلکاروں کو حراست میں لیکر پندرہ مختلف ہتھیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان سمیت گاڑیوں کو اپنی تحویل میں لیا۔ سرمچاروں نے پولیس تھانہ نذر آتش کرنے سمیت بڑے حصے کو بلڈوزر کردیا جبکہ چوکی کو بارودی مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔
آخر میں کہاکہ مجموعی طور پر، جون کے اس پہلے عشرے میں کی جانے والی یہ منظم اور کثیر الجہتی کارروائیاں بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی آپریشنل رسائی، انٹیلیجنس ونگ ‘زراب’ کی غیر معمولی کارکردگی اور زمینی کنٹرول قائم کرنے کی صلاحیت کا بین ثبوت ہیں۔ ان حملوں کے دوران قابض قوتوں کو پہنچنے والا بھاری جانی و مالی نقصان، اعلیٰ فوجی حکام کی ہلاکت اور ریاستی تنصیبات پر حاصل کیا جانے والا کنٹرول یہ واضح کرتا ہے کہ بلوچ مزاحمتی قوت اب حریف کے عسکری پھیلاؤ کو روکنے اور اس پر اپنی تزویراتی برتری ثابت کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ بی ایل اے اپنے ان تمام جانباز سرمچاروں کو بلوچ قومی دفاع کی راہ میں دی جانے والی لازوال قربانیوں پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس اصولی موقف کا اعادہ کرتی ہے کہ جب تک بلوچ دھرتی سے غیر ملکی تسلط اور غاصبانہ قبضے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا، دشمن کے عسکری، انٹیلیجنس اور معاشی اثاثوں پر اس نوعیت کی کاری ضربیں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔


















































