بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 4 جون 2026 کی صبح گوادر کے علاقے کنٹانی میں ہور کے مقام پر کارروائی کرتے ہوئے چار پولیس اہلکاروں کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ مقامی گاڑیوں سے بھتہ وصول کر رہے تھے۔ سرمچار اہلکاروں کے قبضے سے ایک عدد سرکاری کلاشنکوف بمعہ میگزین اور ایک گاڑی ضبط کر لی گئی۔
ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے 3 جون 2026 کو مند کے علاقے سورو میں پاکستانی فوج اور ایم آئی کے دفتر پر متعدد گرنیڈ لانچرز کے گولے داغے جو اپنے اہداف پر جا لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 3 جون 2026 کو بلیدہ کے علاقے میناز میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو آئی ای ڈی بم حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 4 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 2 جون 2026 کو نوشکی میں ریکوڈک منصوبے سے منسلک معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر آئی ای ڈی بم دھماکہ کرکے حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد دشمن ریاستی فورسز نے قریبی آبادیوں پر دھاوا بول کر نہتے عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا اور لوگوں کی جھونپڑیوں کو آگ لگا دی اور ان کے مال مویشیوں کو نقصان پہنچایا۔
مزید کہاکہ سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں 31 مئی 2026 کو کیچ کے علاقے شہرک میں ڈیم بازار کے مقام پر سی پیک روڈ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی کو آئی ای ڈی بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 ایف سی اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
بیان میں کہا ہے کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 31 مئی 2026 کو گوادر کے علاقے پشکان میں قائم پولیس چوکی پر حملہ کر کے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر چوکی میں موجود دو عدد کلاشنکوف اور دیگر عسکری ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کرنے کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 27 مئی 2026 کو کیچ، دشت کے علاقے کنچتی میں ریاستی مخبروں اور آلہ کاروں کی سرگرمیوں کے پیشِ نظر شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے تلاشی کا عمل شروع کیا۔ دورانِ تلاشی سرمچاروں نے عطا اللّہ ولد عبدالواحد سکنہ دشت، چوٹ کو شناخت کے بعد حراست میں لے لیا۔
دورانِ حراست ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فورسز کے لیے سرمچاروں کی مخبری کرنے، علاقے میں گشت اور چوری و ڈکیتی جیسی وارداتوں میں ملوث تھا۔ اس کے علاوہ وہ مقامی افراد کو زبردستی فوجی کیمپوں میں منتقل کرنے اور انہیں فوج کا آلہ کار بنانے کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران اس نے متعدد دیگر فوجی آلہ کاروں کے ناموں کا بھی انکشاف کیا جنہیں تحقیقات کے بعد جرم ثابت ہونے پر جلد ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔یاد رہے بی ایل ایف کی جانب سے مذکورہ شخص کو متعدد بار تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ ایسی قوم دشمن سرگرمیوں سے باز رہے تاہم اس نے تنظیم کی طرف سے اس تنبیہہ کو سنجیدگی سے لینے اور فوج کیلئے مخبری سے باز آنے کے بجائے دشمن کے لیے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دیا تھا۔ تمام جرائم کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد سرمچاروں نے 30 مئی کو دشت کھڈان کے مقام پر اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ گوادر، مند بلیدہ، نوشکی، شہرک اور دشت میں ہونے والے ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔














































