بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں عام آبادی پر پاکستانی فوج کا آپریشن آج دوسرے روز بھی جاری ہے، جس میں نہتے لوگوں کے گھروں پر شدید بمباری کی جا رہی ہے، جبکہ بی آر اے کے سرمچاروں نے پاکستانی فوج اور تنصیبات کو مختلف علاقوں میں حملوں کا نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہاکہ گزشتہ رات سوئی سے کراچی جانے والی چھتیس انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو سوئی کے گوپٹ کے مقام پر دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد گیس لائن میں آگ بھڑک اٹھی اور سپلائی مکمل بند ہو گئی۔ جبکہ گوپٹ کے اسی مقام پر گیس پائپ لائن پر تعینات ایف سی اہلکاروں کو گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ سوئی میں رنگ روڈ پر مندر کالونی کے قریب ایف سی کے گشت پر گھات لگا کر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہو گئے۔
مزید کہاکہ سوئی شہر میں طوطا کالونی کے مقام پر ویل نمبر 72 سے پلانٹ کو جانے والی سولہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد ویل سے پلانٹ کو گیس سپلائی منقطع ہو گئی۔
ترجمان نے کہاکہ آج دوپہر کے وقت سوئی جھٹ پٹ روڈ پر ناکہ بندی کر کے سی ٹی ڈی کے دو کارندوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تحقیقات جاری ہیں۔ اہلکاروں کے نام مراد علی ولد محمد بخش اور پرویز ولد محمد صلع ہیں۔ گرفتار اہلکاروں کا تعلق بگٹی قبیلے کے ہیژوانی شاخ کے گورانی ٹکر سے ہے۔
انہوں نے کہاکہ شام کے وقت ایف سی کے ایک قافلے نے گرفتار سی ٹی ڈی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے پیش قدمی کی، جنہیں سوئی جھٹ پٹ روڈ پر کچی پل کے قریب بی آر اے کے سرمچاروں نے گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بیان کے آخر میں کہاکہ پاکستانی فوج کی جارحیت اور آئی ایس آئی کی بھتہ خوری کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔













































