بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاہے کہ تنظیم کے فدائی یونٹ مجید بریگیڈ اور انٹیلی جنس ونگ زراب نے آج صبح کوئٹہ شہر میں ایک انتہائی پیچیدہ، منظم اور مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں کوئٹہ کینٹ ریلوے اسٹیشن کے مضافات میں، چمن پھاٹک کے قریب قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو منتقل کرنے والی ایک مخصوص عسکری شٹل ٹرین کو فدائی حملے کا نشانہ بنایا۔ اس تباہ کن کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 82 اہلکار موقع پر ہلاک اور 121 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں پاکستانی فوج کے جے سی اوز (جونئیر کمیشنڈ آفیسرز)، این سی اوز (نان کمیشنڈ افسرز)، سپاہی اور نئے بھرتی ہونے والے عسکری ریکروٹس شامل ہیں۔ ان ہلاک و زخمی فوجی اہلکاروں میں دشمن فوج کے، 4فرنٹئیر فورس رجمنٹ، 10 بلوچ رجمنٹ، 25 بلوچ رجمنٹ، ای ایم ای سینٹر ، انفنٹری اسکول، 31 کیولری ، 2 پنجاب رجمنٹ، 80 فیلڈ آرٹلری، 50 سگنلز، 63 میڈیم آرٹلری رجمنت، 54 میڈیم آرٹلری رجمنٹ کے اہلکار شامل تھے۔ یہ فدائی مشن بی ایل اے کے جانباز فدائی کمانڈر بلال شاہوانی نے انتہائی دلیری اور ذہانت سے سرانجام دیا۔ بلوچ لبریشن آرمی اس آپریشن کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ یہ کامیاب آپریشن دشمن فوج کے اس نئے اور خفیہ سفری پروٹوکول پر کاری ضرب ہے، جسے اس نے گیارہ مارچ دوہزار پچیس کو جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ اور نو نومبر دو ہزار چوبیس کو شال ریلوے اسٹیشن پر مجید بریگیڈ کے فدائی رفیق بزنجو کے حملے کے بعد انتہائی رازداری کے ساتھ نافذ کیا تھا۔ نو نومبر کے معرکے نے دشمن کے روایتی دفاعی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا تھا، جس کے بعد قابض پاکستانی فوج نے اپنے فوجی اہلکاروں کو سرمچاروں کی پہنچ سے بچانے کے لیئے پبلک ریلوے اسٹیشن سے فوجی اہلکاروں کی براہِ راست منتقلی کا طریقہ کار تبدیل کیا۔ اس شدید خوف کے پیشِ نظر وضع کیئے گئے نئے پروٹوکول کے تحت جعفر ایکسپریس کی روانگی سے چند گھنٹے قبل، رات کی تاریکی میں چار سے پانچ مخصوص ریلوے بوگیوں کو کوئٹہ کینٹ کے ہائی سیکیورٹی زون کے اندر منتقل کردیا جاتا تھا۔ صبح کے وقت، رخصت پر جانے والے اور نئی تعیناتی والے فوجی اہلکار کینٹ کے سیکیورٹی حصار کے اندر ان بوگیوں میں سوار ہوتے تھے، جس کے بعد ان بوگیوں کو ایک الگ انجن کے ذریعے عسکری شٹل ٹرین کی شکل دے کر، جعفر ایکسپریس کی روانگی سے ٹھیک آدھا گھنٹہ قبل کینٹ سے نکال کر کوئٹہ ریلوے اسٹیشن لایا جاتا تھا تاکہ انہیں مسافر ٹرین کے ساتھ منسلک کیا جاسکے۔ دشمن کا مفروضہ تھا کہ کینٹ کے اندرونی ڈھانچے کو استعمال کرکے وہ اپنے نقل وحرکت کو سرمچاروں کی نظروں سے محفوظ رکھ سکے گا۔
انہوں نے کہاکہ اس خفیہ سفری ترتیب کے ساتھ ساتھ، دشمن فوج نے اس فوجی شٹل ٹرین کے روٹ کو زمین دوز اور بیرونی خطرات سے بچانے کے لیئے کینٹ سے لے کر ریلوے اسٹیشن تک کے پورے ٹریک کے دونوں اطراف ایک بلند و بالا سیکیورٹی دیوار کی تعمیر شروع کر رکھی تھی تاکہ کسی بھی ممکنہ زمینی رسائی کو تکنیکی طور پر ناممکن بنایا جاسکے۔ مزید برآں، اس شٹل ٹرین کی روانگی کے وقت سیکیورٹی کے تعاقب کو یقینی بنانے کے لیئے روزانہ ٹرین کے آنے سے قبل کوئلہ پھاٹک اور پشین اسٹاپ پل پر فوج کی کیو آر ایف ( کوئیک رسپانس فورس) کو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ہائی الرٹ تعینات کیا جاتا تھا، جبکہ چمن پھاٹک کی مستقل عسکری پوسٹ سے پیدل پٹرولنگ دستے نکل کر اس پورے رینج کو اپنے عسکری حصار میں لے لیتے تھے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت تھے کہ غاصب فوج سیکیورٹی کے روایتی تصورات سے ہٹ کراب دفاعی پوزیشن پر آچکا ہے۔
بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ زراب نے دشمن کے اس پورے بدلے ہوئے سیکیورٹی نیٹ ورک، وقت کی ترتیب اور خفیہ اندرونی مواصلات کی طویل عرصے تک ریکی کی۔ یہ آپریشن بی ایل اے کی انٹیلی جنس کی اس برتری کا عکاس ہے کہ زراب غاصب فوج کے محفوظ ترین عسکری زونز اور فیصلہ ساز اداروں کے اندر گہرائی تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ یہ آپریشن عسکری سائنس اور وقت کی پابندی کے اعتبار سے اس قدر باریک بینی کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اگر اس کی پلاننگ اور عملدرآمد میں پانچ منٹ کا بھی فرق آگے یا پیچھے ہو جاتا، تو دشمن فوج کو نشانہ بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ فدائی کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں نے زراب کی فراہم کردہ اسی دقیق خفیہ معلومات کی بنیاد پر تمام عسکری و سیکیورٹی حصاروں کو کامیابی سے عبور کیا اور صبح ٹھیک آٹھ بجے کے قریب، جب یہ مخصوص عسکری ٹرین کوئلہ پھاٹک کو عبور کرکے چمن پھاٹک کے پاس پہنچی، تو انہوں نے اس پر ایک زور دار فدائی وار کرکے دشمن کے سیکیورٹی برتری کے تمام دعووں کو زمین بوس کر دیا۔ ٹرین پر قابض فوج کے کل تین سو چھتیس اہلکار سوار تھے، اور حملے کے نتیجے میں فوج کی صفوں میں موجود چوہتر جدید ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں کا دفاعی نیٹ ورک، سات ہزار تین سو بیس زندہ گولیاں اور دیگر تمام فوجی ساز وسامان سیکنڈوں میں ناکارہ ہوکر رہ گیا۔
ترجمان نے کہاکہ پاکستانی فوج اپنی اس عبرتناک انٹیلی جنس ناکامی، بزدلی اور کینٹ جیسے قلعہ بند زون کے حفاظتی حصار کے ٹوٹنے کے صدمے کو چھپانے کے لیئے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر روایتی جھوٹ اور مسخ شدہ پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے۔ ریاستی میڈیا اور اس کے سرکاری ترجمان اپنے باوردی اہلکاروں کی ہلاکتوں کو سویلین ہلاکتوں کا رنگ دے کر دنیا کے سامنے مظلومیت کا بیانیہ بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ بی ایل اے پوری سیاسی اور اخلاقی قوت کے ساتھ اس جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نشانہ بننے والی ٹرین کوئی عام مسافر گاڑی نہیں تھی بلکہ کینٹ کے ممنوعہ زون سے صرف اور صرف عسکری اہلکاروں کو منتقل کرنے والی ایک مخصوص شٹل تھی، جس میں کسی بھی عام شہری کا داخلہ تو دور کی بات، اس روٹ کے قریب جانا بھی ممنوع تھا۔ ریاست کا اپنی فوج کے باقاعدہ جانی نقصانات کو عام شہریوں کے کھاتے میں ڈالنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قابض فوج اب بلوچ سرمچاروں کا سامنا کرنے کے عسکری اور نفسیاتی حوصلے سے یکسر محروم ہوچکی ہے، اور وہ اپنے گرتے ہوئے مورال کو بچانے کے لیئے حقائق کو مسخ کرنے پر مجبور ہے۔
بیان میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی ایک منظم، باشعور اور بین الاقوامی جنگی قوانین کے اصولوں پر کاربند ایک باقاعدہ قومی فوج ہے، جو سویلینز یا غیر عسکری شہریوں پر حملوں کو اخلاقی اور تنظیمی طور پر اپنی پالیسی کے خلاف سمجھتی ہے۔ ہمارا مقصد کوئی اندھی مہم جوئی نہیں، بلکہ اپنی دھرتی کی آزادی کے لیئے ایک ذمہ دار اور اصولی جنگ لڑنا ہے۔ ہمارے عسکری اہداف بالکل واضح اور سیاسی طور پر جائز ہیں، جن میں صرف اور صرف قابض فوج، فوج کے ذیلی ادارے، غاصب نوآبادیاتی انتظامیہ، دھرتی کے غدار “ڈیتھ اسکواڈ” اور بلوچ وسائل کو لوٹنے والے استحصالی پروجیکٹس شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور رس آپریشن کے لیئے دانستہ طور پر اتوار کے دن صبح کے وقت کا انتخاب کیا گیا، تاکہ اس وقت عام شہریوں کی نقل و حرکت کا امکان کم ہو۔
انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے ایک فعال، تجربہ کار اور فیلڈ کمانڈر کا خود کو فدائی مشن کے لیئے پیش کرنا بی ایل اے کے ادارہ جاتی ارتقا اور فکری برتری کا واضح ثبوت ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ قومی مزاحمت اب روایتی گوریلہ طریقہ کار کی حدود سے بہت آگے نکل کر ایک ایسے جدید، سائنسی اور باقاعدہ عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں تنظیمی کمانڈرز اجتماعی قومی اہداف کو انفرادی مادی کردار اور زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ بلال شاہوانی کا یہ اقدام تاریخ میں محکوم اقوام کی سیاسی و عسکری جدوجہد کے ایک ایسے عالمگیر اصول کے طور پر محفوظ رہے گا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ غاصب ریاست کے جدید ترین مادی نیٹ ورک کا مقابلہ صرف اور صرف گہرے فکری ڈسپلن، انٹیلی جنس رسائی، لازوال قربانی اور تزویراتی عزم کے پائیدار توازن سے ہی ممکن ہے۔ پچیس سال کی عمر میں، جب انہوں نے دشت اور کمبیلا کے محاذوں پر طویل عرصے تک عسکری کمانڈ سنبھالی، اور آپریشن ہیروف اول و دوم میں قلات اور شال کے ریڈ زون جیسے کٹھن میدانوں میں ہراول دستوں کی قیادت کی، ان کا یہ آخری فدائی انتخاب تحریک کو مستقل فکری جلا بخش گیا ہے۔
آخر میں کہاکہ بی ایل اے کے آج کے اس کامیاب اور تاریخی معرکے نے یہ اٹل حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ قابض ریاست پاکستان، بلوچ دھرتی پر جتنی بھی اونچی دیواریں کھڑی کرلے یا سیکیورٹی پروٹوکول بدل لے، وہ بلوچ قومی فوج کے عزم کو نہیں روک سکتی۔ بی ایل اے اپنے فدائی کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں کو اس تاریخی کامیابی اور قوم کے سر کو فخر سے بلند کرنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ہماری یہ منظم، اصولی اور فکری جنگ بلوچ سرزمین پر بلوچ کی مکمل حاکمیتِ اعلیٰ کے قیام اور حتمی آزادی تک پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔


















































