مستونگ: شاہراہ پر مسلح افراد کا کنٹرول، پاکستانی فورسز پر حملہ

1

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا اور پاکستانی فوج کو حملے میں نشانہ بنایا۔

مستونگ کے علاقے کانک، ببری کے مقام پر گذشتہ روز مسلح افراد کی بھاری تعداد نے کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ کی اس دوران معدنیات لیجانے والی آٹھ گاڑیوں کو تحویل میں لینے کے بعد نذرآتش کردیا گیا۔

دریں اثناء پاکستانی فورسز کو اس وقت بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ علاقے میں پیدل پیش قدمی کی کوشش کررہے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں کے جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

قبل ازیں گذشتہ روز مستونگ ہی کے علاقے کردگاپ میں پاکستانی فورسز کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا۔

یہ واقعات اس وقت پیش آئیں جب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو کوئٹہ کینٹ سے ریلوے اسٹیشن لیجانے والی شٹل ٹرین کو بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ نے ایک ‘فدائی’ حملے میں نشانہ بنایا۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہ کن کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 82 اہلکار موقع پر ہلاک اور 121 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں پاکستانی فوج کے جے سی اوز (جونئیر کمیشنڈ آفیسرز)، این سی اوز (نان کمیشنڈ افسرز)، سپاہی اور نئے بھرتی ہونے والے عسکری ریکروٹس شامل ہیں۔