بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ اور خدیجہ بلوچ کے لواحقین کا احتجاج جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ، تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6168 ویں روز بھی جاری رہا۔
جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی اور اس سلسلے کے خاتمے کے لیے وی بی ایم پی کی پرامن جدوجہد 2009ء سے مسلسل جاری ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کر کے ان کے اہلِ خانہ کی ذہنی اذیت اور بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔
چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب، خدیجہ بلوچ کی غیر قانونی گرفتاری اور عدم بازیابی کے خلاف ان کے لواحقین کا احتجاج آج 26 ویں روز بھی جاری رہا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ خدیجہ بلوچ کی باحفاظت رہائی کے لیے انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی جا رہی، جو کہ سماجی روایات اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔

















































