بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 17 مئی 2026 کو مند کے علاقے سوراپ بارڈر پر قائم پاکستانی فوج کی ایک چیک پوسٹ کو انتہائی قریب سے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں باہر ڈیوٹی پر موجود تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس ابتدائی حملے کے فوراً بعد، سرمچاروں نے مورچوں کے اندر پوزیشن لیے ہوئے دیگر اہلکاروں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس سے چیک پوسٹ کے دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہاکہ کارروائی کے بعد فوج نے ڈرون طیاروں کے ذریعے سرمچاروں کا تعاقب کیا، تاہم سرمچار گوریلا حکمتِ عملی اپناتے ہوئے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 15 مئی 2026 کو جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں قائم قابض پاکستانی فوج کی حفاظتی چوکی پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ کارروائی کے دوران حواس باختہ دشمن نے سرمچاروں کی پوزیشنز کو نشانہ بنانے کے لیے کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا، جسے سرمچاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہوا میں ہی مار گرایا۔
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 13 مئی 2026 کو کیچ کے علاقے شاپک میں قائم قابض پاکستانی فوج کے مین کیمپ اور اس سے متصل حفاظتی چوکیوں پر ایک مربوط حملہ کیا۔ سرمچاروں کے مختلف دستوں نے جدید، بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے دشمن کے کیمپ اور چوکیوں کو متعدد اطراف سے بیک وقت نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے مین کیمپ اور بیرونی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ وہاں تعینات اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید کہاکہ سرمچاروں نے 29 اپریل 2026 کو حب کے علاقے دُریجی میں جاسوسی کے آلات سے لیس ریاستی مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بناتے ہوئے وہاں موجود مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔ سرمچاروں کے اس حملے کے نتیجے میں مذکورہ مقام پر قائم دشمن کے مواصلاتی ٹاور پر نصب تمام اہم آلات اور متعلقہ مشینری جل کر مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مند، جھاؤ، شاپک اور حب میں ہونے والے ان تمام حملوں، تین اہلکاروں کی ہلاکت، اور کیمپوں، چوکیوں و مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔















































