اسلام آباد: بلوچ طالبعلم پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

14

اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب بروز ہفتہ شام تقریباً 9 بجے سول کپڑوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ آرکیالوجی کے طالبعلم کمبیر بلوچ کو اسلام آباد کے علاقے I-8 مرکز سے جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کمبیر بلوچ اپنے ایک فیملی کزن کو کچھ ضروری سامان پہنچانے کے لیے وہاں گئے ہوئے تھے کہ اسی دوران انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اہلکاروں نے اُن کے ساتھ موجود خاتون کو بھی دھمکاتے ہوئے کہا کہ اگر اس واقعے کی اطلاع کسی کو دی گئی یا سوشل میڈیا پر خبر چلائی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک طالبعلم کو اس طرح عوامی مقام سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کے عدالتی اور قانونی نظام پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بغیر کسی وارنٹ اور قانونی جواز کے ایک جامعہ کے طالبعلم کے ساتھ اس قسم کا رویہ انتہائی قابلِ مذمت، تشویشناک اور آئین و قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی بلوچ طلبہ کے ساتھ ایسے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں انہیں غیرقانونی طور پر گرفتار، ہراساں یا جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایریڈ ایگریکلچرل یونیورسٹی راولپنڈی کے طالبعلم فیروز بلوچ اور قائداعظم یونیورسٹی کے سعید بلوچ کے واقعات اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ فیروز بلوچ گزشتہ چار سال سے لاپتہ ہیں جبکہ سعید بلوچ کے بارے میں گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود تاحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوسکی۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ وفاقی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ مسلسل عدم تحفظ، خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ وفاقی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ کو اکثر ایسے سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ کبھی کسی جامعہ کا پروفیسر انہیں دھمکاتا ہے تو کبھی مشکوک افراد اُن کا تعاقب کرتے نظر آتے ہیں۔ ان تمام حالات نے بلوچ طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی خوف میں مبتلا کردیا ہے، جہاں وہ ہر وقت عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ اپنی تعلیمی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ جب ہمارے ساتھی کمبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے I-9 انڈسٹریل ایریا تھانے گئے اور ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی تو پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کیا۔ بعدازاں صرف ایک درخواست وصول کی گئی، جبکہ ایس ایچ او نے اُس گاڑی کا اصل نمبر درج کرنے کے بجائے کوئی دوسرا نمبر رپورٹ میں شامل کیا، جس میں کمبیر بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ پولیس حکام کا یہ رویہ نہایت غیر سنجیدہ، افسوسناک اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ ہم کمبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور تمام مکاتبِ فکر، طلبہ تنظیموں، وکلاء برادری، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کمبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اپنی سیاسی اور پُرامن جدوجہد ہر صورت جاری رکھیں گے۔ ہم حکامِ بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کمبیر بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرکے قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے