مختلف علاقوں میں سرکاری دفاتر پر قبضے اور 17 پاکستانی فورسز اہلکار ہلاک کئے۔ بی ایل ایف

0

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے پانچ فروری کو مشکے کے علاقے بُنڈکی میں پاکستانی فورسز کی چوکی پر راکٹ لانچر کے گولوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ 

میجر گہرام بلوچ کے مطابق راکٹ کے دو گولے چوکی پر لگے اور حملے کے نتیجے میں دشمن فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

 

انہوں نے کہا چار فروری کی شام سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقہ بگاڑی زیلگ میں قابض فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا، سرمچاروں نے پہلے اسنائپر رائفل سے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر موقع پر ہلاک کیا، بعدازاں راکٹ اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کیمپ کو نشانہ بنایا۔ 

انکا کہنا تھا حملے کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، حملے کے بعد دشمن کے حواس باختہ فورسز نے عام آبادی پر فائرنگ کی۔

 

ترجمان کے مطابق چار فروری کو ایک اور کاروائی میں سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے کوٹو میں پاکستانی فورسز کی چوکی پر بہت قریبی سے راکٹوں، ایل ایم جی و دیگر ہتھیاروں سے حملہ کیا، حملہ دیر تک جاری رہا جس میں دشمن فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

بعدازاں شکست خوردہ دشمن فورسز نے چار گھنٹوں تک عام آبادیوں پر مارٹر کے درجنوں گولے داغے اور فائرنگ بھی کی۔

 

ترجمان نے کہا ہے کہ اسی روز ہی کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے جھاؤ کے مرکزی بازار میں واقع ملیٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، اس حملے کے نتیجے میں ملیٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 

اس سے قبل 3 فروری کی صبح سرمچاروں نے مند کے علاقے شیراز میں قائم قابض پاکستانی فوج کے ایک چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ 

بی ایل ایف ترجمان کے مطابق حملے کے دوران سرمچاروں نے چیک پوسٹ پر نصب نگرانی کے کیمروں کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

 

انہوں نے کہا بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 2 فروری کو حملہ کرکے واشک شہر کا مکمل گھیراؤ کیا، سرمچاروں نے شہر میں داخل ہوتے ہی مختلف سرکاری اداروں کو محاصرے میں لے لیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جن میں ڈپٹی کمشنر آفس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا دفتر اور پاکستان کا نیشنل بینک شامل تھے، اس دوران مرکزی بازار پر بھی سرمچاروں کا مکمل کنٹرول قائم رہا۔

 

ترجمان کے مطابق اس دوران فوج کی دو گاڑیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی تاہم سرمچاروں نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے دونوں گاڑیوں پر حملہ کردیا۔ 

اس جھڑپ کے دوران 13 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ چند دیگر اہلکار پسپا ہو کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 

میجر گہرام بلوچ نے کہا کارروائی کے بعد سرمچاروں نے ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کا اسلحہ قبضے میں لے لیا اور دونوں فوجی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ 

اس حملے میں سرمچاروں نے دشمن فوج کو کاری ضرب لگا کر نہ صرف اپنی برتری ثابت کردیا بلکہ دشمن پر یہ بھی ثابت کیا کہ بلوچستان میں قدم قدم پر سرمچار قہر بن کر ان پر ٹوٹ پڑنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

 

اسی طرح دو فروری کو ایک اور کاروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے آواران کے علاقے ماشی میں دشمن فوج کے چوکی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 

اسی روز 2 فروری ہی کو سرمچاروں نے آواران کے علاقے سیاہ گزی میں بھی فوج کے چوکی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 

ترجمان نے کہا انتیس جنوری کی رات سرمچار تنظیمی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں مند کے علاقے چکاپ کی جانب سفر کررہے تھے کہ راستے میں دشمن کے پیدل اہلکاروں سے سامنا ہو گیا جس کے نتیجے میں جھڑپ شروع ہوئی۔ 

جھڑپ کے دوران سرمچاروں نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن اہلکاروں کو نشانہ بنایا جس کے باعث دشمن کو پسپا ہونا پڑا۔

 

انکے مطابق ابتدائی جھڑپ کے بعد دشمن کا چار گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جائے وقوعہ پر پہنچا، اس موقع پر سرمچاروں نے جنگی حکمتِ عملی کے تحت مورچہ بندی کی اور قافلے میں شامل اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ 

ترجمان نے کہا کارروائی کے دوران دشمن کی ایک گاڑی کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ مزید دو اہلکار بھی حملے میں مارے گئے اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے، سرمچاروں کے اس حملے میں دشمن کی ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ باقی گاڑیوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

 

اس حملے میں دشمن فوج کے زمینی دستوں کو واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث فوج نے کواڈ کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی اور تعاقب کی کوشش کی تاہم بلوچ سرمچار بحفاظت علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

 

بی ایل ایف ترجمان نے مزید کہا 28 جنوری کو سرمچاروں نے بلیدہ کے علاقے الندور میں قابض فوج کی ایک چوکی پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغے جو چوکی پر جا لگے، اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 

ترجمان نے آخر میں کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مشکے، جھاؤ، آواران، واشک، مند اور بلیدہ میں 17 اہلکاروں کی ہلاکت، اسلحہ ضبط کرنے، سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچانے اور فوج و ملٹری انٹلجنس پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔