10 کارروائیوں میں 3 فوجی اہلکار ہلاک، تجارتی شاہراہ پر کاڈ کی ناکہ بندی۔ بی ایل ایف

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 9 اکتوبر 2026 کو قلات کے علاقے منگچر بازار میں واٹر سپلائی پر قائم قابض پاکستانی فوج کے چوکی میں تعینات ایک اہلکار کو اسنائپر سے نشانہ بنا کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2026 کو مند کے علاقے کوہ ڈغار میں سرمچار تنظیمی امور کی سرانجام دہی کے سلسلے میں گشت پر تھے کہ اس دوران ان کا سامنا قابض فوج کے دستوں سے ہو گیا۔ مستعد سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قابض فوج پر حملہ آوار ہوئے اور اس جھڑپ کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سرمچار دشمن کو نقصان پہنچانے کے بعد باحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 7 اکتوبر 2026 کو تربت کے علاقے ناصر آباد میں پنجاب کے معاشی مفادات سے منسلک دو ٹریلر گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا جبکہ اسی مقام پر ایک ڈمپر گاڑی کو بھی نذرآتش کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ چھ اکتوبر 2026 کو سرمچاروں نے سوراب کے علاقے گدر میں گرڈ اسٹیشن کے قریب قابض فوج کے 3 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات حملے میں نشانہ بنایا۔ اس حملے میں قافلے کی ایک گاڑی براہِ راست زد میں آئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 2 اہلکار ہلاک جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ پانچ اکتوبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے خواتین یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) اور ہراول دستے قربان یونٹ کے سرمچاروں نے چاغی کے علاقے یکمچ میں شہر کے دو مختلف مقامات پر مکمل ناکہ بندی قائم کر کے اسنیپ چیکنگ کی اور شاہراہ پر کنٹرول حاصل کیا۔ اس دوران سرمچاروں کے دیگر دستوں نے یکمچ شہر میں داخل ہو کر گشت کیا اور نادرا آفس پر حملہ کر کے وہاں موجود تمام سرکاری مشینری اور ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس موقع پر سرمچاروں نے وہاں موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ قومی آزادی کے لیے جاری مسلح جدوجہد اور اپنے اہداف کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔

ترجمان نے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے 4 اکتوبر 2026 کو شاپک کے علاقے گٹ کور کے پل پر قابض ریاست کے معاشی مفادات کے تحت بلوچ سرزمین کا استعمال کرنے والے ایک تجارتی ٹریلر کے ٹائرز پر فائرنگ کر کے انہیں برسٹ کردیا۔

انہوں نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 3 اکتوبر 2026 کو تربت کے علاقے ناصر آباد میں پولیس تھانے کے قریب ایک اور ٹریلر گاڑی پر فائرنگ کر کے اسے نقصان پہنچایا۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے مزید ٹرالر گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا جبکہ دوسری گاڑی کے ٹائروں اور انجن پر فائرنگ کر کے ناکارہ کر دیا۔ ڈرائیورز کو تنبیہ کے بعد رہا کردیا۔

ترجمان نے کہا کہ ہمارے جنگجوؤں نے 2 اکتوبر 2026 کو تربت کے علاقے ناصر آباد میں قابض ریاست کی معاشی مفادات سے منسلک ایک ٹرک کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔ دریں اثناء اسی تاریخ کو تربت کے علاقے نودز میں سرمچاروں نے ایک بلوچ قومی وسائل کے لوٹ کھسوٹ میں شامل ٹرک کو روک کر اس کے تمام ٹائروں پر فائرنگ کرکے برسٹ کردیا۔

1 اکتوبر 2026 کو مند کے علاقے بلوچ آباد میں ہمارے سرمچاروں نے استحصالی اداروں سے منسلک دو ٹرکوں کے ٹائروں پر فائرنگ کر کے انہیں برسٹ کر دیا اور ڈرائیوروں کو تنبیہ کرکے رہا کردیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ واضح کرتی ہے کہ بلوچ قوم کی مرضی اور منشا کے بغیر بلوچ سرزمین اور اس کے قدرتی وسائل کا کسی بھی قسم کا تجارتی استعمال بلوچ قوم کا معاشی استحصال ہے۔ یہ تمام تر تجارتی سرگرمیاں قابض پاکستان کی معیشت کو تقویت دینے اور بلوچستان کی سرزمین پر عسکری تسلط کو استحکام بخشنے کے مترادف ہیں۔ بی ایل ایف ان تمام معاشی منصوبوں اور ترسیلی راستوں کو قومی دشمن کا معاشی نیٹ ورک شمار کرتی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مزید کہا کہ تمام ٹرانسپورٹر حضرات کو سختی سے آخری تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کے کسی بھی علاقے کے لیے سامان لے جانے اور بلوچ سرزمین کو ترسیلی و معاشی مقصد کے لیے استعمال کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں۔ تمام ٹرانسپورٹرز اور کمپنیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس مہم اور پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کریں اور ان شاہراہوں سے سامان کی نقل و حمل فوری طور پر بند کر دیں۔ بصورتِ دیگر خلاف ورزی کی صورت میں ہونے والے تمام تر جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری خود متعلقہ ٹرانسپورٹر اور مالکان پر عائد ہوگی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔