بلوچستان میں کئی دہائیوں سے ایمرجنسی نافذ ہے، آئین معطل ہے۔ حاجی لشکری رئیسانی

20

سیاسی رہنما حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود غربت، پسماندگی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق، صوبے کی 47 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کو مناسب حصہ ملنا چاہیے تاکہ عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ وسائل سے مالا مال اس صوبے کے عوام کو غربت اور محرومی سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں۔

حاجی لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان کے وسائل کو شفافیت، انصاف اور عوامی مفاد کے اصولوں کے تحت بروئے کار لایا جائے اور مقامی لوگوں کو ان کے جائز حقوق دیے جائیں تو صوبے میں معاشی خوشحالی، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مزید کہاکہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے ایمرجنسی نافذ ہے، آئین معطل ہے۔