کوئٹہ میں نوجوانوں کی اچانک اموات: کیا دل کی بیماریاں کم عمری میں خطرہ بن رہی ہیں؟

0

دو نوجوانوں کے انتقال نے تشویش بڑھا دی، ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور طرزِ زندگی کے عوامل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

کوئٹہ میں چند گھنٹوں کے دوران دو نوجوانوں کے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کی اطلاعات نے شہریوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ ملک عنایت شاہوانی کے نوجوان فرزند ملک عمیر شاہوانی اور نصیب اللہ کاکڑ کے انتقال کی خبر نے ایک اہم سوال پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا دل کی بیماریاں اب کم عمر افراد کے لیے بھی بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں؟

نوجوانوں کی اچانک اموات صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ صحتِ عامہ سے متعلق ایسے سوالات کو بھی جنم دیتی ہیں جن پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ تاہم، ان دونوں اموات کی طبی تفصیلات، حتمی تشخیص اور ممکنہ وجوہات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان کی اموات کسی خاص مشروب یا طرزِ زندگی کے باعث ہوئیں۔

اگست 2025 میں کراچی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (NICVD) کے ماہرین نے ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں دل کے دورے کے تقریباً نصف مریضوں کی عمریں 49 سال سے کم تھیں، جبکہ 12 سے 15 فیصد مریض 40 سال سے کم عمر تھے۔ ماہرین نے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، سگریٹ نوشی اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کو اہم خطرات میں شمار کیا۔

پاکستانی نوجوانوں میں دل کے امراض سے متعلق شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بھی سگریٹ نوشی، جسمانی سرگرمی کی کمی اور خون میں چکنائی کی غیر معمولی سطح کو اہم عوامل قرار دیا گیا۔

یہ نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ کم عمری کو دل کی بیماریوں سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

دل کے دورے کا خطرہ صرف عمر سے متعین نہیں ہوتا۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، تمباکو نوشی، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور خاندان میں کم عمری میں دل کی بیماری کی تاریخ خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ بعض افراد میں موروثی یا پہلے سے موجود قلبی مسائل بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کیا انرجی ڈرنکس دل کے لیے خطرناک ہیں؟

کوئٹہ میں نوجوانوں کی اموات کے بعد سوشل میڈیا اور شہری حلقوں میں انرجی ڈرنکس، خصوصاً اسٹنگ جیسے مشروبات، کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ زیادہ کیفین والے انرجی ڈرنکس دل کی دھڑکن تیز کرنے، بلڈ پریشر بڑھانے اور دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض حساس افراد میں یہ اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے 2026 میں شائع ہونے والے سائنسی جائزے کے مطابق انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین کی زیادہ مقدار اور دیگر محرک اجزا قلبی نظام پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

طبی لٹریچر میں ان مشروبات کے استعمال کے بعد دل کی خطرناک بے قاعدہ دھڑکنوں اور بعض سنگین واقعات کی رپورٹس بھی موجود ہیں، تاہم ہر واقعے میں براہِ راست سبب ثابت ہونا ضروری ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: انرجی ڈرنکس سے متعلق عمومی طبی شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ملک عمیر شاہوانی یا نصیب اللہ کاکڑ کی اموات اسٹنگ یا کسی مخصوص مشروب کے باعث ہوئیں۔ اس کے لیے ان کے طبی ریکارڈ، استعمال کی تفصیلات اور متعلقہ طبی تحقیقات درکار ہوں گی۔ کسی برانڈ یا مشروب کو ثبوت کے بغیر موت کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔

نوجوان اپنی صحت کے لیے کیا اقدامات کریں؟

ماہرینِ صحت کے مطابق دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو بلڈ پریشر، خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی جانچ کو اہمیت دینی چاہیے، خصوصاً اگر خاندان میں کم عمری میں دل کی بیماری کی تاریخ موجود ہو۔

سگریٹ اور تمباکو سے اجتناب، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور انرجی ڈرنکس کے غیر ضروری یا زیادہ استعمال سے گریز بھی اہم احتیاطی اقدامات ہیں۔

سینے میں دباؤ یا درد، سانس پھولنے، ٹھنڈے پسینے، متلی، چکر یا بازو اور جبڑے تک پھیلنے والے درد کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ علامات دل کے دورے سمیت کسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے، چاہے متاثرہ شخص نوجوان ہی کیوں نہ ہو۔

کوئٹہ میں دو نوجوانوں کی اچانک اموات نے اس بحث کو پھر زندہ کردیا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نوجوانوں میں آگاہی، بروقت تشخیص اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کتنی ضروری ہے۔

ان اموات کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مستند طبی معلومات ضروری ہیں، جبکہ وسیع تر مسئلے سے نمٹنے کے لیے احتیاط، اسکریننگ اور عوامی آگاہی کو ترجیح دینا ہوگی۔