بلوچستان: پولیس اہلکاروں کا اغوا، ریاست طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ ایچ آر سی پی

0

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے مستونگ میں 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کے اغوا اور نصیرآباد میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی اور واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان “ایچ آر سی پی” نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کے اغوا اور نصیرآباد میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے تمام فریقین کے ساتھ بامعنی سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 16 اکتوبر کو مستونگ میں 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کا اغوا اور 17 اکتوبر کو نصیرآباد میں دو پولیس کانسٹیبلوں کا قتل بلوچستان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور سرکاری اہلکاروں سمیت عام شہریوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

بیان میں حکام پر زور دیا گیا ہے کہ اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور دونوں واقعات کی قابلِ اعتماد اور شفاف تحقیقات کرکے ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

ایچ آر سی پی نے مزید کہا کہ صرف طاقت کے استعمال سے پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ریاست کو بلوچستان کے تمام متعلقہ فریقین، بالخصوص سول سوسائٹی، کے ساتھ فوری طور پر بامعنی سیاسی مذاکرات شروع کرنے چاہییں۔

بیان میں بلوچستان کے دیرینہ مسائل اور شکایات کے ازالے پر بھی زور دیا گیا ہے، جن میں مقامی آبادیوں کے اپنے وسائل پر حقوق کا تحفظ بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں گورگینہ کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران ایک مسافر وین روک کر قلات ریکروٹ ٹریننگ سینٹر کے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اہلکار ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جارہے تھے۔

پولیس کے مطابق مغوی اہلکار سابق لیویز اہلکار ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے پولیس میں ضم کردیا تھا، واقعے کے بعد سے اغوا کاروں اور مغوی اہلکاروں کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔