کوئٹہ: 2900 سکیورٹی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

17

بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 2900 جدید سکیورٹی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ محکمانہ اصلاحات کے تحت 871 پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

یہ فیصلے منگل کو وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سکیورٹی اور پولیسنگ سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیے گئے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے اجلاس کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پولیسنگ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں سکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ’کوئٹہ انٹیگریٹڈ سکیورٹی پروجیکٹ‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ’کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور‘ کے تحت شہر بھر میں 2900 جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ شدت پسندی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بلوچستان پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے کوئٹہ انٹیگریٹڈ سکیورٹی پروجیکٹ کے تحت کوئیک رسپانس فورس کے نئے سٹیشن بھی قائم کیے جائیں گے۔

حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بلوچستان پولیس میں اصلاحات اور محکمانہ خود احتسابی کا عمل جاری ہے۔ غیر حاضری اور غفلت کے الزامات پر 871 اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کے ساتھ تعینات 1005 پولیس اہلکاروں کی خدمات واپس محکمہ پولیس کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری تربیت اور مطلوب وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی۔