بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

25

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6384ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر جبری لاپتہ اسرار اللہ کے والد عبدالروف نے کیمپ میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے اسرار اللہ کو کلی کمالو، سریاب کوئٹہ سے سیکیورٹی فورسز نے 26 جولائی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کے کیس میں کمیشن کے حکم پر متعلقہ تھانے اور اعلیٰ انتظامیہ نے چشم دید گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے، لیکن تاحال اسرار اللہ بازیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

عبدالروف نے حکام سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اسرار اللہ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو اذیت اور غیر یقینی صورتِ حال سے نجات دلانا ضروری ہے۔