بی ایل اے زیارت کراس حملہ، ہلاک فوجی اہلکاروں کی تفصیلات سامنے آگئی

63

بلوچستان کے علاقے زیارت کراس کے قریب قلعہ سیف اللہ اسکواٹس، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 134 ونگ کے قافلے پر حملے میں تمام 16 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایف سی 134 ونگ کا ایک دستہ، جس کی قیادت میجر صلاح الدین کر رہے تھے، زیارت کراس کے قریب حملے کی زد میں آیا۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گاڑی میں سوار تمام 16 ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے 16 اہلکاروں میں نائیک اسماعیل، سپاہی بلال، سپاہی عبد الرحمن، سپاہی فخر الدین، سپاہی کنکھب، سپاہی عرفان، سپاہی اکبر، سپاہی عطا محمد، سپاہی رضوان، سپاہی محمد طفیل، نائیک محمد ایوب، سپاہی اولیاس خان، سپاہی واجد علی، سپاہی محمد اشفاق، حوالدار لطف الرحمن اور نائیک زین اللہ شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر اہلکار فرنٹیئر کور کے 134 ونگ سے وابستہ تھے، جبکہ سپاہی اولیاس خان اور سپاہی واجد علی 159 ونگ، سپاہی محمد اشفاق 150 ونگ، حوالدار لطف الرحمن 603 فیلڈ بیٹری اور نائیک زین اللہ ہیڈکوارٹر ونگ سے منسلک تھے۔

واقعے کے حوالے سے ابتدائی مرحلے میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بعض ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی، جبکہ دیگر ابتدائی اطلاعات میں ایک اہلکار کے زخمی اور متعدد کے لاپتا ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم تازہ ترین فراہم کردہ فہرست کے مطابق گاڑی میں سوار تمام 16 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے آج زیارت کراس کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے میں شامل چار گاڑیوں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کی ایک ٹرک سمیت دو گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آ کر تباہ ہوگئیں۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ سرمچاروں نے قابض فوج کے 18 اہلکاروں کو ہلاک کرکے ان کا اسلحہ ضبط کرلیا، جبکہ قابض فوج کے 5 اہلکار زخمی حالت میں بھاگ نکلے۔

بی ایل اے ترجمان نے کہا کہ اس حملے میں بلوچ لبریشن آرمی کا ‘فتح اسکواڈ’ اس کارروائی میں شامل تھا۔