بلوچستان کے اضلاع خاران اور پنجگور میں شام کے وقت پاکستانی فورسز اور ان کے رسد کو نشانہ بنانے کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق خاران شہر کے قریب شام کے وقت مسلح افراد نے پاکستان فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران فوج کی کم از کم تین گاڑیاں براہ راست فائرنگ کی زد میں آئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر تقریباً دس فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، حکام کی جانب سے واقعے، جانی نقصان یا حملے کی تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
ادھر ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں پاکستان فورسز کے لیے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو مسلح افراد نے آگ لگا دی۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے دوران ایک دوسری گاڑی کو بھی مسلح افراد نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پنجگور ہی کے علاقے چیدگی میں ماشکیل کور کے مقام پر ایک اور واقعے میں، مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی جانب سے نصب کیے گئے نگرانی کے کیمروں کو تباہ کر دیا۔
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران فورسز، سرکاری تنصیبات، نگرانی کے نظام اور رسد سے متعلق گاڑیوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ خاران اور پنجگور سمیت متعدد اضلاع میں مسلح سرگرمیوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
ان تازہ واقعات کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی۔ ماضی ان جیسے واقعات کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں قبول کرتے آرہے ہیں۔













































