گوادر: بلوچی زبان کے شاعر، محقق و دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کے 100ویں یومِ ولادت پر تقریب کا انعقاد

6

بلوچی زبان کے نامور شاعر، محقق و دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کے یومِ ولادت کو 100 سال مکمل ہونے پر سید ہاشمی اکیڈمی اور آر سی ڈی کونسل کے زیرِ اہتمام سید ظہور شاہ ہاشمی آڈیٹوریم، آر سی ڈی کونسل میں دو روزہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے، بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی اور مغربی بلوچستان سے آئے مہمانوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر کتابوں کی رونمائی، شجرکاری اور تصاویر کی نمائش کی گئی، جبکہ مختلف کتابوں کے اسٹالز بھی قائم کیے گئے اور متنوع تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

افتتاحی تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سینیٹر جان محمد بلیدی، بلوچی زبان کے نامور ادیب ڈاکٹر اے آر داد، سید ہاشمی اکیڈمی کے صدر علی عیسیٰ، نائب صدر ماجد سہرابی، آر سی ڈی کونسل کے جنرل سیکرٹری بہرام بلوچ، سید ظہور شاہ ہاشمی کے فرزند واجد شاہ ہاشمی، ادیبہ زاہدہ رئیسی اور بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے نائب صدر صدیق بلوچ نے خطاب کیا۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے، وہ ہر وقت بلوچی زبان کی ترقی و آبیاری کے لیے کوشاں رہتے تھے، وہ نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ماہرِ لسانیات بھی تھے، اور بلوچی کے ساتھ ساتھ اردو، عربی، انگریزی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ظہور ہاشمی بیماری کے باوجود بھی زبان کی خدمت میں مصروف رہے اور کبھی مایوس نہیں ہوئے “سید گنج” جیسی لغت مرتب کرکے انہوں نے بلوچ قوم کو ایک عظیم تحفہ دیا، جو ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، اگر وہ مزید دس سال زندہ رہتے تو بلوچی ادب کو عالمی سطح پر مزید نمایاں مقام حاصل ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سید ہاشمی کے بلوچی ادب سے متعلق بہت سا کام اب بھی باقی ہے اور ان کی کئی تخلیقات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آ سکیں، جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی ایک عظیم کردار کے حامل تھے اور بلوچ قوم کو ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مکران کی جامعات کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو بلوچی زبان کے نامور شعراء، سید ظہور شاہ ہاشمی اور عطا شاد پر ایم فل کے مقالے لکھنے کی ترغیب دیں۔