بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے گل زادی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام کی جانب سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی کی واضح علامت ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ کے مطابق گل زادی اور دیگر رہنماؤں کو سزائیں سناتے وقت خود ججز نے بھی دباؤ میں ہونے کا اعتراف کیا، جس سے عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطہ عملاً ایک جیل میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور شہری زندگی پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ نے مزید کہا کہ حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بی وائی سی رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، تاہم ان کے مطابق اصل مقصد رہنماؤں کی آواز کو خاموش کرنا تھا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہونے والے مظالم کا خاتمہ ہونے تک ہمیں خاموش نہیں کیا جا سکتا۔


















































