کیچ: سامی سے جبری لاپتہ اکرام سلیم کی بازیابی کے لیے اہلخانہ کا مطالبہ

15

کیچ کے علاقے سامی کے رہائشی اکرام سلیم کے لواحقین نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکرام ایک نائی کی دکان پر کام کرتا ہے اور ایک بے قصور اور کم عمر نوجوان ہے۔

لواحقین نے کہا کہ اکرام ایک پرامن شہری ہے اور اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا، جبکہ اس کا کسی بھی منفی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق اکرام کو 23 ستمبر بروز بدھ کو گاڑی پر سوار نامعلوم افراد نے اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ایک بڑا بھائی ایک تنظیم میں چلا گیا ہے تاہم خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس کے کسی بھی عمل کے نفع و نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

لواحقین نے کہا کہ اگر بڑے بھائی سے کوئی شکایت ہے تو اس کی سزا چھوٹے بھائی یا پورے خاندان کو نہ دی جائے۔

لواحقین نے مطالبہ کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ اکرام سلیم اس وقت کہاں ہے اور اسے کس نے حراست میں لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ انتظامیہ اورپاکستانی فورسز کے سامی میں قائم کیمپ سے بھی رابطہ کرچکے ہیں تاہم انہیں تاحال کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اکرام سلیم نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاہم اسے بلاوجہ سزا نہ دی جائے۔

لواحقین نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو ان کے موبائل نمبرز اور دیگر رابطوں کی تحقیقات کی جائیں، تاہم وہ اپنے بڑے بھائی سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں اور اس کے کسی بھی عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اکرام سلیم کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور اسے فوری طور پر بازیاب کرکے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔