چھ سال جدائی کے بعد تین گھنٹے کی ملاقات – دیدگ بلوچ

50

چھ سال جدائی کے بعد تین گھنٹے کی ملاقات

تحریر : دیدگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

22 ستمبر 2020 کی رات ہے اور ہم دیار غیر میں ہے۔ زگرین سامنے کرسی پر نشست سنبھالے نہ جانے کن سوچوں میں گم ہے میں بھی بظاہر موبائل استعمال کر رہا تھا لیکن دماغ کہیں اور تھا ۔۔۔ یہ میرا زگرین کے ساتھ آخری رات تھی ۔۔۔ کل صبح مجھے زگرین کو چھوڑ کر وطن کے لئے نکلنا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن خوشی کے ساتھ ساتھ ایک غم جو میرے ساتھ لپٹا ہوا تھا کہ زگرین کو چھوڑ کر جارہا ہوں ۔۔۔ ہماری اگلی ملاقات کب ؟ کہاں ؟ کیسے اور کتنے عرصے بعد ہوگی اس کا اندازہ نہ مجھے تھا اور نہ ہی زگرین کو ۔۔۔ یہ تین سال کا عرصہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔
وہ آخری رات ہم نے خوب باتیں کئے ، لیکن دل کا بوجھ کم نہ ہوا ۔

اگلے دن زگرین کو ”خدا حافظ“ کہہ کر میں وطن کے لئے نکل پڑا ۔۔۔۔۔ وطن زخمی تھا ، ظالموں کا راج تھا ، پورا قوم بے بس اور لاچار تھی ، ریاستی غنڈوں کا ہر طرف راج تھا ، کئی طرح کے ظلم کرتے ، لوگوں کو اٹھاتے ، ان سے بھتہ وصول کرتے ، یا ان کا مسخ شدہ لاش ویرانوں پر پھینک دیتے ۔ کسی کو یقین نہیں کہ گھر سے نکلنے کے بعد واپس سلامت گھر پہنچ جاؤں گا کہ نہیں ۔۔

اسی تماش بینی میں تین سال گزرے اب زگرین سے بھی حال حوال نہیں ہو پارہا تھا ۔۔۔ اکثر اس کا نمبر بند رہتا ، سوشل میڈیا پہ بھی نہیں دکھتا ۔۔۔۔ لیکن دل کو ایک تسلی تھی کہ زگرین جہاں بھی ہوگا سلامت ہوگا ۔۔۔۔۔

اب ایک انتظار جو میرے دل کو اندر سے بے چین کر رہا تھا۔

زگرین سے جدا ہوئے 6 سال ہونے کو تھے اگست 2026 کا آخری ہفتہ تھا کہ ایک دوست نے زگرین کا بھیجا پیغام مجھ تک پہنچایا اور اس سے رابطہ کرنے کا کہہ دیا ۔۔۔۔ اندھے کو دو آنکھ مل گئے اور دنیا کی رنگینیاں اس کے لئے پھر سے بحال ہوئے ۔۔۔۔

28 اگست 2026 دوپہر کا وقت تھا اور زگرین سے میری بات ہوئی ۔۔۔۔ چھ سال کی پیاس دو منٹ کی باتوں سے کیسے ختم ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔ ” قربان نیٹ ورک آ سر مریو تسلی اٹ حوال کیوہ نے ”
کہہ کر آف لائن ہوا ۔۔۔۔۔
اب مجھے انتظار کرنا تھا ۔۔۔۔۔ یہ بات تو سچ ہے کہ انتظار کی کیفیت انسان کے اندر امید ، صبر ، ضبط اور برداشت جیسے عظیم اوصاف پیدا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن آج کا یہ انتظار میرے لئے اضطراب ، بے چینی اور تڑپ کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔۔۔۔اب میں اسی انتظار میں موبائل کی ہر نوٹیفکیشن پہ دھیان دیتا کہ شاید یہ زگرین کا ہی میسج ہو ۔۔۔۔۔۔

29 اگست کی اندھیری رات تھی موبائل پہ یہ تیسری دفعہ ایک ہی گانا چل رہی تھی ۔۔
”رکھ اکن ڈے نا اُرانا غان ہنانے
راج نا غازی تہ تون پند روان ئے“

میں دنیا سے بےنیاز ایک گہری سوچ میں گم تھی کہ وہ نازک بدن ، گھر کا لاڈلا اب کس حال میں ہوگا ؟ کیا وہ پتھروں پہ سر رکھ کے سو سکے گا کہ نہیں ؟ کیا وہ بھوک اور پیاس برداشت کر سکے گا ؟ سنگلاخ پہاڑ ہو یا پتھریلے راستے کیا وہ چل سکے گا ؟ دھوپ کی تپش گرمی کی ہیئت ، سخت سردی ، بارش اسے کیا کیا برداشت کرنی ہوگی ۔۔۔۔۔ ؟

دشمن سے مقابلے کے دوران جب وہ اپنی بندوق کی سیفٹی لیور فائر پہ سیٹ کرتا ہوگا تو نہ جانے کیا کیا منظر اسں کے آنکھوں میں نقش ہوتا ہوگا ۔۔۔ کس کس کو یاد کرتا ہوگا ۔۔۔۔۔ ٹریگر دبانے سے پہلے نہ جانے اسکے زبان پہ کیا کیا ورد ہوگا کسے یاد کرتا ہوگا ۔۔۔ ؟

موبائل پہ موصول ہونے والے نوٹیفیکیشن نے میرے خیالات کو منتشر کر دیا جیسے ایک تیار مینار زمین بوس ہو۔۔۔۔۔۔
قربان انت حال ءِ؟
جی ہاں یہ زگرین ہی تھا۔۔
میسج پڑھ کے ایک عجیب سی کیفیت نے مجھے گھیر لیا ۔۔۔۔۔ جیسے میں جو چاہتا تھا وہ سب کچھ مجھے مل گیا ہو ۔۔۔۔ ایک ادھوری زندگی جو اب تکمیل کو پہنچنے والا ہو ۔۔۔۔ جیسے اللہ نے وہ سب کچھ پورا کرنے کا وعدہ کیا ہو مجھ سے جن کی مجھے کئی برسوں سے ضرورت تھی ۔۔۔۔۔ یہ میسج زگرین کا تھا جو کہ اُس وقت محاز پہ تھا اور میں دو ہفتے سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

اُس رات دیر تک ہماری بات چیت چلتی رہی ۔۔۔۔۔ اور ایک خفیہ مقام پہ ملاقات کا کہہ کر آخری میسج بھیج کر آفلائن ہوا ”رخصت اِف اوارن قربان“۔۔

تیسرے دن صبح سویرے ایک رازدار ساتھی کے ساتھ زگرین سے ملنے کے لئے رختِ سفر باندھ لیا ۔

کئی گھنٹوں دشوار گزار راستوں سے گزر کے ہم زگرین کے بتائے ہوں جگہ پر پہنچ گئے ۔ راستے سے کچھ ہی فاصلے پہ دور بیٹھا زگرین ہمیں دیکھ کے اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ M16 امریکن گن کندھے سے لٹکائے ، ہاتھ میں مخابرہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے جب وہ ہماری طرف بڑھنے لگا تو ایک الگ منظر پیش کر رہا تھا شاید جسے میں صرف محسوس کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔۔ وہ لفظ میرے پاس نہیں جس سے میں اس منظر کو ہوبہو بیان کرسکوں جیسے میں نے اسے محسوس کر لیا یا شاید میں اتنا قابل نہیں ۔۔۔۔ بہرحال وہ دلکش منظر شاید مرتے دم تک میں بُھلا نہ سکوں ۔۔۔

زگرین اور ہمیں ساتھ چلتے تقریبًا آدھا گھنٹہ ہوا ہوگا کہ اچانک زگرین ایک طرف اشارہ کر کے ہمیں مڑنے کا کہا شاید یہ سب سے محفوظ مقام تھا ۔

​یہ ملاقات ایک ایسی انجان جگہ پر ہوئی جہاں چاروں طرف خاموشی اور ویرانی کا راج تھا۔ وہ مقام کسی دور دراز، وادی کے دامن میں واقع ایک سنسان اور اجاڑ علاقہ تھا، جہاں بظاہر زندگی کے آثار نہ ہونے کے برابر تھے۔ بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہواؤں کا شور کسی آنے والے طوفان کی خبر دے رہا تھا۔ اس خاموش اور بظاہر ویران جگہ زگرین سے میری ملاقات چھ سال کے بعد ہورہی تھی ۔۔۔۔

زگرین کی چال ڈھال اور چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ وہ عام انسان نہیں بلکہ جنگ کی بھٹی سے گزرا ہوا ایک گمنام اور ایک عظیم بوچ گوریلا جنگجو ہے۔

​اس کے چہرہ اور بات کرنے کا انداز اس پہ گزری ہوئی ہولناک داستانوں کا پتہ دے رہے تھے۔ اس کے ہتھلیوں اور ہاتھوں کی سختی اس بات کا ثبوت تھی کہ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہتھیار سنبھالنے اور مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرنے میں گزارا تھا ۔۔۔۔۔۔۔زگرین کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور وقار تھا۔

​جب میں نے اس سے بات چیت کا آغاز کیا تو اس کی گفتگو میں گھبراہٹ یا تلخی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس نے اپنے ماضی، اپنی جنگوں اور اپنے ساتھیوں کو کھونے کے درد کو اتنے ضبط اور شائستگی سے بیان کیا کہ میں اس کے صبر پر حیران رہ گیا۔ اس نے بتایا کہ جنگ کا مقصد صرف بندوق چلانا یا میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اصل جنگ انسان کی اپنے اندر کے خوف، تنہائی اور دشواریوں کے خلاف ہوتی ہے۔

​زگرین میں ایک بے مثال وصف جو میں نے دیکھا وہ اسکا بے مثال صبر اور اٹل حوصلہ تھا۔ اس نے زندگی کے انتہائی سخت حالات اور تنہائی کو جس خندہ پیشانی سے قبول کیا تھا، وہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ تمام تر دکھوں اور ماضی کی بھیانک یادوں کے باوجود اس کے لہجے میں امید اور حوصلے کی کرن روشن تھی۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا اسے شاید کبھی نہ پہچان سکے اور نہ ہی تاریخ کے صفحات میں اس کا نام لکھا جائے گا، لیکن اسے اس بات کا کوئی ملال نہ تھا۔ اس کے نزدیک سچی بہادری یہ تھی کہ انسان بغیر کسی صلے اور تعریف کی تمنا کے اپنے وطن پر جان قربان کردے ۔

​اس انجان جگہ پر اس گمنام بلوچ جنگجو سے ملاقات نے مجھے زندگی کا ایک نیا فلسفہ سکھایا۔ اس نے مجھے بتایا کہ بہادری صرف میدانِ کارزار میں دشمن کو شکست دینے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کی سختیوں اور مصائب کے سامنے صبر و ہمت کا پہاڑ بن کر کھڑے رہنا ہی حقیقی بہادری ہے۔

ہمیں زگرین کے ساتھ بیٹھے کئی گھنٹے گزرے ہونگے لیکن ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ابھی پانچ منٹ ہی ہوا ہوگا ۔۔۔ کئی کہانیاں سنئں ، کئی کہانیاں سنائیں وقت ختم ہوا لیکن باتیں نہیں اور چاہتے ہوئے بھی ہم وقت کو روک نہیں سکے ۔۔۔ سنگت بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا اور یہ واضح اشارہ تھا کہ دیدگ اُٹھو دیر ہو رہا ہے ۔۔۔ زگرین بھی اب ہمارے ارادے بھانپ چکا تھا ۔۔۔۔ لیکن جس طرح میں نے سوچا تھا زگرین کو اُس کے برعکس پایا ۔۔۔۔۔۔

​انسان کی حقیقی طاقت کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اسے حالات کی ایسی کٹھالی سے نہ گزرنا پڑے جو اس کے مزاج اور عادتوں کے بالکل برعکس ہو۔ ایک ایسا انسان جو ناز و نعم میں پلا بڑھا ہو، جس نے زندگی کی تمام آسائشیں اور آرام دیکھے ہوں، جب اچانک زندگی کے سفر میں اسے حالات کی سختیوں اور بیابانوں سے نبرد آزما ہونا پڑے تو یہ تبدیلی اس کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ایسا ہی ایک تجربہ ایک نازک مزاج گوریلا سرمچار کا ہے، جسے اپنے گھر کی پرسکون اور آرام دہ زندگی سے دور، کالے چٹان اور سرکش سنگلاخ پہاڑوں میں اپنا فرض سرانجام دینی پڑتی ہے۔

​وہ وطن زاد جو کل تک اپنے گھر کی ملائم کمبلوں ، گرم کمروں، اور اپنوں کی شفقت کے سائے میں زندگی گزارتا تھا، جس کے نازک مزاج کو چھوٹی چھوٹی باتیں ناگوار گزرتی تھیں، آج اسے ایک ایسی دنیا کا سامنا ہے جہاں کا موسم، زمین اور ہر لمحہ اس کے امتحان کے لیے تیار کھڑا ہے۔ گھر کے نرم و ملائم بستر کی جگہ اب پہاڑوں کی پتھریلی اور سخت زمین نے لے لی ہے، اور اپنوں کی میٹھی باتوں کی جگہ اب برفیلی ہوائوں کی سنسناہٹ اور سناٹے کا راج ہے۔

ایک سرمچار کی زندگی ان سنگلاخ پہاڑوں میں بظاہر دور سے تو خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتی ہے، لیکن وہاں کا قیام ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ شدید سردی، گرمی اور تنہائی ایسے عوامل ہیں جو انسان کی ہمت کو توڑنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ ابتداء میں، اس نازک مزاج سرمچار کے لیے یہ بدلتا ہوا ماحول ایک اذیت ناک خواب کی مانند تھا۔ ہر قدم پر پتھروں کا چبھنا، جمادینے والی سردی کا جسم میں اترنا، اور اپنوں سے دوری کا احساس اس کے دل کو غمگین اور بے چین کر دیتا تھا۔ اس کے نازک مزاج کو اس ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔

​لیکن وقت سب سے بڑا معلم ہے۔ جب زگرین نے اپنے فرائضِ منصبی اور وطن کی حفاظت کے جذبے کو محسوس کیا، تو اس کے اندر کی کمزوری آہستہ آہستہ طاقت میں بدلنے لگی ہوگی ۔ اس نے یہ بات سیکھ لی ہوگی کہ کہ نازک مزاجی اور نرمی اپنے گھر کے صحن تک تو ٹھیک ہے، لیکن فرض کا میدان اور پہاڑوں کی بلندیاں صرف اور صرف صبر، برداشت اور سخت کوشی کا تقاضا کرتی ہیں۔

​رفتہ رفتہ پہاڑوں کی سختی نے اس کے ارادے کو فولاد بنا دیا تھا ۔شاید اب وہ ہر طرح کے طوفانوں کا سامنا مسکراتے ہوئے کرنے لگا تھا ۔۔۔ پہاڑوں کی تنہائی نے اسے اپنے اندر جھانکنے اور اپنی باطنی طاقت کو پہچاننے کا موقع دیا تھا ۔ اس نے محسوس کیا کہ اصل شجاعت یہ نہیں کہ انسان کبھی نرم یا نازک نہ رہا ہو، بلکہ سچی بہادری یہ ہے کہ وطن کی پکار پر انسان اپنی نازک مزاجی کو چھوڑ کر ہر مشکل اور سخت راستے پر ڈٹ جائے۔

​زگرین کی نازک مزاجی کی یہ تبدیلی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب ایک سرمچار اپنے وطن اور قوم سے سچی محبت کرتا ہے تو دنیا کی کوئی بھی سختی، دور افتادہ پہاڑ اور بیابان اس کے حوصلے کو توڑ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔
گھر سے دور ان سرکش پہاڑوں نے اسے نہ صرف ایک مضبوط اور باہمت گوریلا سرمچار بنادیا تھا بلکہ زندگی کا یہ سبق بھی سکھا دیا تھا کہ مشکلات انسان کو توڑنے کے لیے نہیں، بلکہ تراش کر نکھارنے کے لیے آتی ہیں۔۔۔۔۔۔

قربان ۔۔۔۔۔ ایک کپ چائے اور پیئو پھر چلتے ہیں وہ کیتلی اُٹھا کے کپ میں چائے انڈھیلنے لگا ۔۔۔۔چائے پی کے ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کھڑے ہوئے ۔۔۔ زگرین واپس اس جگہ تک ہمارے ہی ساتھ آیا اور پھر وہ وقت بھی آگیا جہاں سے زگرین اور ہماری راہ جدا ہونے تھے ۔۔۔ زگرین کو الوداعی خمب کر کے میرے آنسو میرے قابوں میں نہ رہے ۔۔۔ اور پھر کھڑے اس وطن زاد کو ہم نم آنکھوں کے ساتھ اس وقت تک دیکھتے رہے جب تک وہ پہاڑوں میں غائب ہوا ۔۔۔۔
الوداع سنگت الوداع ……..!!!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔