محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کی درخواست، امریکہ کا براہ راست مداخلت سے گریز

32

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ امریکہ میں ڈیزل کی خوردہ قیمت پہلی بار چھے ڈالر فی گیلن سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کی جانب سے ٹینکروں پر حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی یمن میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کو قرار دیا جا رہا ہے، جس سے توانائی کی ترسیل کے ایک اور اہم راستے کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس صورتحال نے واشنگٹن کو ایک مشکل فیصلہ درپیش کر دیا ہے کہ آیا وہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی مدد کرے یا نہیں، کیونکہ ایسی کسی بھی مداخلت سے جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب کے حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی فوجی مدد طلب کی۔

تین ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن نے فی الحال براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کا فیصلہ کیا ہے، تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سنیچر کے روز تصدیق کی کہ ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات چیت ہوئی تھی۔ ان کے مطابق حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ امریکہ اس تنازع میں براہ راست شامل نہ ہو۔

ادھر یمنی حکومت کے چار ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے جمعے کے روز باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع اہم جزیرے پریم پر قبضہ کر لیا ہے۔ بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع باب المندب کو عالمی سمندری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے اور اسے بعض اوقات ’گیٹ آف ٹیئرز‘ (آنسوؤں کا دروازہ) بھی کہا جاتا ہے۔

امریکی میڈیا ایگزیوس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے ان کے خلاف فوجی کارروائی میں مدد کی درخواست کی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے جمعرات کو دو مرتبہ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق حوثی بحیرہ احمر کی ایک اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث عالمی تجارت اور سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے سعودی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔

حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ یمن کے ایک اہم ساحلی شہر اور باب المندب کے قریب واقع اہم علاقوں پر ان کے کنٹرول نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ ایران کے بعد اب حوثی بھی ایک اور اہم بحری راستے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں دباؤ کا شکار ہوئے تو عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں واقع اہم جزیرے پریم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم آئل پائپ لائن کے قریب دھواں اٹھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر آمادہ ہے، تاہم اس کا ارادہ جنگ میں براہ راست شامل ہونے کا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی ترجیح ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر توجہ مرکوز رکھنا ہے تاکہ خطے میں ایک نیا محاذ کھلنے سے روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق حالات بگڑنے کے بعد سعودی عرب نے امریکہ سے تعاون کی سطح بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں غیر جنگی معاونت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ امریکہ بحیرہ احمر میں جہازرانی کی آزادی اور اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ علاقائی سلامتی کے مسائل کے حل میں اپنے اتحادی ممالک کو مرکزی کردار دینا چاہتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر سعودی عرب اور یمن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔