پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 بلین ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو مؤخر کیوں کیا؟

8

نیوز ایجنسی روئٹرز نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس خریداری کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان کو سوڈان کو 1.5 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنا تھے۔

پہلی بار جنوری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور اسے سعودی عرب کی ثالثی سے طے کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی مالی معاونت کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا، ’’سعودی عرب نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کو یہ معاہدہ ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اس نے اس کی مالی معاونت کا خیال ترک کر دیا ہے۔‘‘

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ سوڈان کی مسلح افواج نے بھی روئٹرز کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستانی فوج نے بھی اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے پہلے فوج اور فضائیہ نے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق بھی نہیں کی تھی۔

ایک ذریعے نے مزید بتایا کہ بعض مغربی ممالک نے سعودی عرب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افریقہ میں پراکسی جنگوں سے دور رہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کے مختلف تنازعات میں اکثر مخالف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، جن میں سوڈان بھی شامل ہے۔

سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستوں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازعہ تقریباً تین سال سے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دے چکا ہے۔ اس جنگ نے بیرونی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ کو بھی بڑھایا ہے اور خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع یہ ملک، جہاں سونے کے بڑے ذخائر ہیں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔