قلات میں مقامی آبادی کی جبری بے دخلی ناقابلِ قبول ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہےکہ تنظیم قلات کے علاقوں شور پارود، خلیلی، خلختی اور شوکی کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کے احکامات کو بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، اجتماعی سزا اور نسل کش پالیسی کے تسلسل کا حصہ سمجھتی ہے۔ 20 ستمبر 2026 کو اسسٹنٹ کمشنر قلات کی جانب سے جاری حکم نامے میں مقامی آبادی کو 28 ستمبر 2026 تک اپنے علاقے خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کسی پوری آبادی کو اس کی آبائی زمین، گھر اور روزگار سے زبردستی بے دخل کرنا محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ مقامی آبادی کی زندگی، شناخت اور اپنی سرزمین پر موجودگی پر براہِ راست حملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ محض نقل مکانی کا حکم نہیں بلکہ اجتماعی سزا اور اجتماعی خوف مسلط کرنے کی پالیسی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے خلاف کارروائی کی قیمت پوری آبادی سے وصول کرنا اجتماعی سزا ہے، اور جب یہی عمل کسی مخصوص قومی شناخت رکھنے والی آبادی کو مسلسل بے دخل کرنے، اس کے معاشی وسائل چھیننے اور اس کی سماجی زندگی کو توڑنے کی صورت اختیار کرے تو یہ نسل کشی کے وسیع تر عمل سے جڑ جاتا ہے۔ لوگوں کو ان بستیوں سے نکالنا جہاں ان کے گھر، زمینیں، روزگار اور نسلوں کی زندگی وابستہ ہے، انہیں صرف بے گھر کرنا نہیں بلکہ انہیں آہستہ آہستہ موت کے حوالے کرنا ہے۔

مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچ عوام کو ان کی قومی شناخت کی بنیاد پر اجتماعی سزا دینا اور ان کی آبادیوں کو خوف، جبری نقل مکانی اور محرومی کے ذریعے منتشر کرنا قابلِ قبول نہیں۔ شادی کور، مستونگ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں مقامی آبادیوں کی جبری نقل مکانی بھی اسی جابرانہ تسلسل کی کڑیاں ہیں، جہاں عام لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں، روزگار اور معمول کی زندگی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اجتماعی سزا کا مقصد صرف لوگوں کو بے دخل کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد خوف پیدا کرنا، سوال ختم کرنا، اجتماعی مزاحمت توڑنا اور ایک محکوم آبادی پر اطاعت مسلط رکھنا ہے۔

آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی جبری انخلا کے ان احکامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ یہ احکامات فوری طور پر واپس لیے جائیں، مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں اپنے گھروں اور آبائی علاقوں میں آزادانہ، باعزت اور محفوظ زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔بلوچستان کے عوام کو اجتماعی سزا دے کر خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ کسی قوم کو اس کی زمین، شناخت اور اجتماعی زندگی سے کاٹنے کی پالیسی کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔