16 گھنٹوں سے کیمپ پر قبضہ برقرار، متعدد اہلکار ہلاک، مزید ڈرون مار گرائے۔ بی ایل ایف

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سدو آپریشنل بٹالین کا آپریشن الماس سولہ گھنٹوں سے زائد وقت گزر جانے کے بعد بھی کامیابی کے ساتھ تاحال جاری ہے۔ ہمارے جند ندر سرمچاروں نے دشمن کے مرکزی کیمپ پر اپنا  قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ قابض فوج کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن کے مرکزی کیمپ پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی خاطر پاکستان فوج کے بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے پیش قدمی کی کوشش کرتے تازہ دستوں کو ہمارے سرمچار پہ در پہ حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے ان کے متعدد فوجی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں اور قابض فوج ہزیمت اٹھانے کے بعد پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ قابض پاکستانی فوج کی جانب سے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے مسلسل سرمچاروں کے مورچوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، مستعد سرمچار بروقت کارروائی کرکے ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان لبریشن فرنٹ کی فدائی دستے ’’سدو آپریشنل بٹالین (SOB)‘‘ سے منسوب الماس بلوچ کا ویڈیو پیغام جاری کر دیا گیا ہے، جس میں وہ گوادر میں جاری ’’آپریشن الماس‘‘ کے دوران محاذِ جنگ سے اپنا بیان ریکارڈ کراتی دکھائی دیتی ہیں۔

ویڈیو کے مطابق، 16 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ پس منظر میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ الماس بلوچ کا چہرہ شناخت محفوظ رکھنے کے لیے دھندلا کیا گیا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے بلوچ قوم سے تحریکِ آزادی میں عملی شرکت کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز کے حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جھڑپوں کے دوران ان کے ہاتھ، چہرے اور پاؤں پر چوٹیں آئی ہیں، تاہم ان کے مطابق وہ زخمی ہونے کے باوجود پُرعزم ہیں اور لڑائی جاری ہے۔