شہید سفیان جان – یاسمین بلوچ

56

شہید سفیان جان

تحریر: یاسمین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شاشان، سب سے پہلے تو میں آپ کو آپ کی شہادت پر سلام پیش کرتی ہوں۔ اس دن کو گزرے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے، جب آپ نے اپنی زندگی مادرِ وطن کے نام کر دی تھی۔ مگر کچھ دن وقت گزرنے کے باوجود گزر نہیں پاتے؛ وہ ہمیشہ ہماری یادوں، ہمارے دکھ اور ہماری سوچ کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ 19 جولائی 2025 بھی ہمارے لیے ایسا ہی ایک دن ہے، جو کیلنڈر کا محض ایک دن نہیں بلکہ ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والا ایک باب ہے۔

اس دن آپ نے اپنی ذاتی خواہشات، اپنے روشن مستقبل، اپنے خواب اور اپنے گھر کی محبت سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا۔ ایک ماں کا لاڈلا بیٹا اپنی ماں سے بچھڑ گیا، ایک باپ کی امید اس دنیا سے رخصت ہوگئی، اور ایک گھر کی خوشیوں میں ایسی کمی آگئی جسے وقت بھی مکمل نہیں کر سکتا۔

مجھے آج بھی یاد ہے، آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ “میرا وطن میری ماں ہے۔ جس طرح مجھے اپنی ماں عزیز ہے، اسی طرح میرا وطن بھی مجھے عزیز ہے۔” آپ کے الفاظ محض باتیں نہیں تھے؛ وہ آپ کے دل میں بسے ہوئے ایک گہرے احساس کی ترجمانی کرتے تھے۔ آپ اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کے بارے میں جو خواب دیکھا کرتے تھے، ان میں اپنی سرزمین کی محبت ہمیشہ نمایاں رہتی تھی۔

آپ کہا کرتے تھے کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں اپنے مقصد اور اپنے یقین کے ساتھ زندگی گزاروں، کمزور پڑ کر واپس نہ آؤں۔ آج جب آپ ہمارے درمیان موجود نہیں، تو آپ کے وہ الفاظ بار بار یاد آتے ہیں اور دل کو ایک عجیب سی اداسی سے بھر دیتے ہیں۔

سفیان جان، آپ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو چکے ہیں، لیکن ہماری یادوں، ہماری گفتگو اور ہمارے دلوں میں آپ آج بھی زندہ ہیں۔ آپ کی مسکراہٹ، آپ کے الفاظ، آپ کا اندازِ گفتگو اور آپ کے خواب آج بھی ہمیں آپ کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ وقت نے آپ کو ہم سے دور ضرور کیا ہے، مگر یادوں سے مٹا نہیں سکا۔

مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب ہم اپنے آبائی قبرستان کے قریب سے گزر رہے تھے۔ آپ نے قبرستان کی طرف مڑ کر دیکھا اور کہا تھا کہ “اس قبرستان میں مادرِ وطن کا ایک بھی شہید نہیں ہے۔” میں نے مسکرا کر جواب دیا تھا کہ اپنے وطن کے لیے شہید ہونا کوئی آسان بات نہیں۔

کون جانتا تھا کہ وقت ہمیں اسی جملے کی ایسی تعبیر دکھائے گا جس کا تصور بھی اس وقت ہمارے ذہن میں نہ تھا۔ آج اسی قبرستان میں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔ وہ جگہ، جسے آپ نے کبھی خالی دیکھا تھا، آج آپ کی یاد سے وابستہ ہے۔ آپ کی قبر ہمارے لیے صرف ایک قبر نہیں، بلکہ آپ کی زندگی، آپ کی یادوں اور آپ کے گزرے ہوئے سفر کی ایک خاموش نشانی ہے۔

سفیان جان، آپ چلے گئے، مگر آپ کی یاد نہیں گئی۔ آپ کی آواز خاموش ہوگئی، مگر آپ کے الفاظ آج بھی ہمارے ذہنوں میں گونجتے ہیں۔ آپ کی آنکھوں میں اپنی سرزمین کے لیے جو محبت تھی، وہ اب ان لوگوں کی یادوں کا حصہ ہے جو آپ کو جانتے تھے اور آپ سے محبت کرتے تھے۔

آپ کی جدائی کا درد لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بعض جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت کم نہیں کرتا، بلکہ انسان انہیں اپنے اندر لیے جینا سیکھ لیتا ہے۔ آپ کی کمی بھی ہمارے لیے ایسی ہی ایک حقیقت ہے۔

آپ نے اپنی زندگی کے قیمتی برس اپنے خوابوں اور اپنے یقین کے نام کیے۔ آپ کی یاد اب صرف ایک خاندان یا چند قریبی لوگوں تک محدود نہیں؛ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک یاد بن چکی ہے جنہوں نے آپ کو قریب سے دیکھا، آپ کے ساتھ وقت گزارا اور آپ کے خوابوں کو سنا۔

وقت گزر جائے گا، موسم بدلیں گے، نسلیں بدلیں گی، مگر کچھ نام انسانوں کی یاد میں دیر تک باقی رہتے ہیں۔ سفیان جان، آپ کا نام بھی انہی یادوں میں شامل ہے۔

آپ اس مٹی میں آسودہ خاک ہیں، مگر ہماری یادوں میں ہمیشہ موجود رہیں گے۔ آپ کی قبر پر گزرتی ہوا، آبائی زمین کی خوشبو اور آپ کو جاننے والوں کی دعائیں آپ کی یاد کو زندہ رکھیں گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔